ایران نے اعلان کیا ہے کہ اس کا مذاکراتی وفد آئندہ چند گھنٹوں میں سوئٹزرلینڈ روانہ ہوگا، جہاں امریکی حکام کے ساتھ حالیہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر عمل درآمد اور فریقین کے وعدوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ اس مرحلے پر حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات نہیں ہوں گے بلکہ موجودہ دورے کا مقصد امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کی نگرانی ہے۔
اسماعیل بقائی نے تہران میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے اپنی تمام ذمہ داریوں کی پاسداری کی ہے، تاہم امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے خاص طور پر لبنان میں جنگ بندی کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو مکمل طور پر پورا نہیں کیا۔ ان کے مطابق مفاہمتی یادداشت کی پہلی اور بنیادی شق لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے سے متعلق تھی، لیکن اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رہنے کے باعث یہ شق مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکی۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ جمعہ کو ہونے والا دورہ بعد میں مؤخر کر دیا گیا تھا، تاہم موجودہ حالات میں دونوں فریقوں کے درمیان طے شدہ وعدوں پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے ایرانی وفد کی سوئٹزرلینڈ روانگی ضروری سمجھی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک ابتدائی شقوں پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو جاتا، اس وقت تک کسی جامع اور حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات شروع نہیں کیے جائیں گے۔
بقائی کے مطابق امریکہ اپنے اتحادی اسرائیل کو لبنان میں جنگ بندی پر عمل درآمد کرانے کا پابند تھا، لیکن اسرائیلی فوج کی کارروائیاں بدستور جاری ہیں، جس کی وجہ سے تہران میں تشویش پائی جاتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکی فریق اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹتا ہے یا ان پر عمل درآمد میں ناکام رہتا ہے تو ایران بھی مناسب جوابی اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ایرانی ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت محض سیاسی اعلامیہ نہیں بلکہ ایک باہمی ذمہ داری پر مبنی فریم ورک ہے، جس کے تحت دونوں فریقوں کو اپنی اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی ایک فریق کی جانب سے وعدوں کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو اس کے اثرات پورے مذاکراتی عمل پر مرتب ہوں گے۔
