ای پی بی ڈی کی ملکی تجارت سے متعلق رپورٹ کے مطابق مالی سال 2011 میں پاکستان کی مجموعی برآمدات 31.1 ارب ڈالر تھیں، جو مالی سال 2026 کے پہلے 11 ماہ میں بڑھ کر 37.4 ارب ڈالر تک پہنچیں، یعنی 15 برس میں صرف 20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسی عرصے میں درآمدات میں 60 فیصد سے زائد اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں ملکی تجارتی خسارہ بڑھ کر 32.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔
دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ برآمدی شعبے کو دی جانے والی محدود سہولتوں کے باوجود بنیادی مسائل برقرار ہیں، ای ایف ایس سکیم میں ایک فیصد کمی اور ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ سرچارج کے خاتمے جیسے اقدامات ناکافی ثابت ہوئے ہیں۔
ای پی بی ڈی رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ برآمد کنندگان کے اربوں روپے کے ٹیکس ری فنڈز سرکاری خزانے میں پھنسے ہوئے ہیں، جبکہ ڈیوٹی ڈرا بیک سکیم اور فائنل ٹیکس رجیم کے خاتمے نے بھی برآمدی شعبے کو متاثر کیا ہے۔
علاوہ ازیں برآمدی خام مال پر ڈیوٹیز اور محصولات کے نفاذ سے پاکستانی ایکسپورٹرز کی عالمی مسابقت مزید کمزور ہوئی۔
رپورٹ میں مزید لکھا گیا کہ پاکستان دنیا کے اُن 25 ممالک میں شامل ہو چکا ہے جن کا تجارتی خسارہ سب سے زیادہ ہے جب کہ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مالی سال 2027 کا بجٹ بھی گزشتہ 15 برس کے جمود اور ناکامیوں کا تسلسل ثابت ہو سکتا ہے۔
