نیٹو سربراہی اجلاس پر شمالی کوریا کی شدید تنقید، جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کا آغاز امریکی اتحادیوں سے کرنے کا مطالبہ

North Korean leader Kim Jong-un says he will focus on increasing nuclear weapons, and that relations with the US depend on Washington's behavior.

شمالی کوریا نے نیٹو کے حالیہ سربراہی اجلاس پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اتحاد پر عالمی کشیدگی میں اضافے اور فوجی بلاکس کو مضبوط بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔ شمالی کوریا کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اگر دنیا میں جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی حقیقی کوشش کی جانی ہے تو اس کا آغاز امریکا کے اتحادی ممالک سے ہونا چاہیے۔

سرکاری خبر رساں ادارے KCNA کے مطابق وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ نیٹو رہنماؤں نے شمالی کوریا کے جائز خودمختار دفاعی اقدامات کو خطرے کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اتحاد خود فوجی اخراجات میں اضافہ، اسلحے کی دوڑ اور ایشیا بحرالکاہل میں اپنی سرگرمیوں کو وسعت دے رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ نیٹو سربراہی اجلاس نے واضح کر دیا ہے کہ اتحاد یورپ اور ایشیا بحرالکاہل میں بلاک سیاست اور محاذ آرائی کو فروغ دے رہا ہے، جس سے خطے میں امن و استحکام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

شمالی کوریا نے جنوبی کوریا اور جاپان کے امریکا کے ساتھ بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ امریکی جوہری تحفظ کے سائے میں ان ممالک کی عسکری صلاحیتوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے، جو خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے