پاکستان اور ایران میں دہشت گردی، منشیات اورانسانی اسمگلنگ کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق

پاکستان اور ایران نے دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ،غیرقانونی امیگریشن اور سرحدی تعاون کے شعبوں میں اشتراک مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

ایرانی وزیرداخلہ اسکندرمومنی سرکاری دورےپراسلام آبادپہنچے،جہاں وزارت داخلہ آمد پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے انکا پرتپاک استقبال کیا،جبکہ فیڈرل کانسٹیبلری کے چاق وچوبند دستے  نے انہیں سلامی پیش کی۔

دونوں وزرائےداخلہ کےدرمیان پہلےون آن ون ملاقات اورپھر وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے،جن میں پاک ایران تعلقات،باہمی تجارت، سرحدی تعاون اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔

اعلامیے کےمطابق دونوں ممالک نےانسداددہشت گردی،انسدادمنشیات،غیرقانونی امیگریشن اور انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کےلیےتعاون بڑھانےپراتفاق کیا،افغانستان سےملحقہ سرحد پر دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کےخلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانےکی ضرورت پر بھی زور دیا گیا، ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان رابطہ کاری مزید مؤثر بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کاکہنا تھا کہ پاکستان ایران کے ساتھ تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے تیار ہے،ایرانی وزیر خارجہ اور وزیرداخلہ نے خطےمیں امن کے لیے غیرمعمولی کردار ادا کیا ہے اور امید ہے کہ جلد مزید مثبت پیشرفت سامنے آئے گی۔

ایرانی وفدمیں گورنرجنرل سیستان و بلوچستان،نائب وزیرداخلہ، نائب وزیراربن ڈویلپمنٹ و ٹرانسپورٹ، نیشنل ایرانی آئل کمپنی کےسربراہ، وزیر زراعت کےخصوصی نمائندےسمیت دیگراعلیٰ حکام شامل تھے، جبکہ پاکستانی وفد میں وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری، سیکرٹری داخلہ، چیئرمین نادرا،ڈی جی ایف آئی اے، ڈی جی اینٹی نارکوٹکس فورس، آئی جی ایف سی،ڈی جی امیگریشن،چیئرمین سی ڈی اے اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے