وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت جاری مون سون بارشوں اور سیلابی صورتحال پر جائزہ اجلاس ہوا جس دوران وزیراعظم نے تمام اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کر دی اور کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پاکستان کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں، جانی و مالی نقصان سے بچاؤ کے لیے تمام اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ موجودہ مون سون میں اب تک ایک سو دس اموات اور تین سو ساٹھ لوگ زخمی ہوچکے ہیں۔
وزیراعظم نے نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی، پی ڈی ایم ایز اور صوبائی حکومتوں کو باہمی رابطے مزید مضبوط بنانے کی ہدایت کی اور کہا کہ تمام ادارے مون سون میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہیں۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی کو فلڈ کمیٹی کے اجلاس کی روزانہ صدارت کرنے کی ہدایت بھی کر دی۔
شہباز شریف نے کہا فلڈ کمیٹی ساری صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد لائحہ عمل طے کرے۔ شمالی علاقوں میں گلاف اور طوفانی ریلوں کی پیشگی اطلاعات کا نظام فعال رکھا جائے۔ وزیراعظم نے کہا پاکستان کا ماحولیاتی خرابی میں حصہ بہت کم ہے، مگر موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات پاکستان کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔ صورتحال میں بہتری کیلئے حکومت طویل، وسط اور قلیل مدتی اقدامات پر تیزی سے کام کر رہی ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ آئندہ دو روز میں آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور جنوبی سندھ میں بارشوں کا بڑا اسپیل متوقع ہے۔ مون سون میں اب تک ایک سو دس افراد جاں بحق اور تین سو ساٹھ زخمی ہوچکے۔
بارشوں اور سیلاب سے سات سو چھیانوے مکانات کو نقصان پہنچا جبکہ تین سو چھہتر مویشی بھی پانی میں بہ گئے۔
