ناظم آباد کے ایک اسپتال میں اپنی نوعیت کا عجیب و غریب واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک خاتون کا مبینہ طور پر نو ماہ تک حمل کے حوالے سے چیک اپ اور ٹیسٹ ہوتے رہے، تاہم آپریشن کے بعد ڈاکٹرز نے بتایا کہ بچہ موجود ہی نہیں تھا۔
متاثرہ خاتون کے شوہر راشد اقبال کے مطابق انہیں ڈلیوری کے لیے 27 اگست کی تاریخ دی گئی تھی، لیکن آپریشن کے دوران ڈاکٹر نے بتایا کہ بچے کی پیدائش ہوئی ہی نہیں۔
دوسری جانب اسپتال کی ہیڈ آف گائنی ڈپارٹمنٹ ڈاکٹر انجم آراں نے مؤقف اختیار کیا کہ مریضہ ان کے پاس آئی تھیں اور انہوں نے خود کو تین ماہ کی حاملہ بتایا تھا۔
ڈاکٹر انجم آراں کے مطابق الٹراساؤنڈ کرانے پر خاتون کے حاملہ ہونے کی رپورٹ منفی آئی، جبکہ مریضہ کی جانب سے مبینہ طور پر جعلی الٹراساؤنڈ رپورٹس پیش کرکے اسپتال انتظامیہ کو گمراہ کیا گیا، جس کے بعد آپریشن کا فیصلہ کیا گیا۔
پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کرتے ہوئے متاثرہ خاتون کے شوہر اور متعلقہ ڈاکٹرز کو ناظم آباد تھانے طلب کرلیا ہے۔ پولیس کے مطابق تمام کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ اور بیانات قلمبند کیے جارہے ہیں تاکہ معاملے کی اصل حقیقت سامنے لائی جاسکے۔
