کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے باکسر قدرت اللہ سکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو سے قومی ٹیم کے ہمراہ وطن واپس نہ پہنچ سکے، جبکہ پاکستان باکسنگ فیڈریشن نے ان کے لاپتا ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
ذرائع کے مطابق قومی ٹیم کی وطن واپسی سے تقریباً چھ گھنٹے قبل قدرت اللہ اچانک لاپتا ہو گئے۔ ٹیم کو صبح 9 بجے ہوٹل کی لابی میں جمع ہونا تھا، تاہم جب ٹیم حکام انہیں بلانے کے لیے ان کے کمرے میں پہنچے تو وہ وہاں موجود نہیں تھے۔
اطلاعات کے مطابق قدرت اللہ رات تقریباً 2 بجے تک اپنے کمرے میں موجود تھے، لیکن صبح ان کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔ ان کا پاسپورٹ اور واپسی کا ٹکٹ ٹیم منیجر کے پاس موجود تھا، جس کے باعث ان کی اچانک گمشدگی نے مزید سوالات کو جنم دیا ہے۔
پاکستان باکسنگ فیڈریشن کے ذرائع نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاملے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ باکسر کے لاپتا ہونے کی وجوہات معلوم کی جا سکیں۔ تاحال اس حوالے سے کوئی سرکاری وضاحت سامنے نہیں آئی کہ قدرت اللہ کہاں گئے یا ان سے رابطہ ہو سکا ہے یا نہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی پاکستانی کھلاڑی کے بیرون ملک ایونٹ کے دوران لاپتا ہونے کی اطلاع سامنے آئی ہو۔ اس سے قبل 2022 کے کامن ویلتھ گیمز کے دوران بھی پاکستان کے دو باکسر ٹیم سے الگ ہو کر مبینہ طور پر روپوش ہو گئے تھے، جس کے بعد کھیلوں کے حلقوں میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
