قطر نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنا اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی کو ممکن بنانا ہے۔
قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کے مطابق ثالثی کی کوششیں "انتہائی اہم مرحلے” میں داخل ہو چکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ قطر، پاکستان اور عمان مسلسل رابطے میں ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تجاویز اور سفارتی پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ بات چیت شروع ہو چکی ہے اور معاہدے تک پہنچنے کا "آخری موقع” موجود ہے۔ تاہم ایران نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی مذاکرات میں پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ابھی حتمی معاہدہ نہیں ہوا، تاہم امید ہے کہ جلد مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے عندیہ دیا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق کسی سمجھوتے کو جلد حتمی شکل دی جا سکتی ہے۔
قطری حکام کے بیان کے بعد عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں چار فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی، کیونکہ سرمایہ کاروں نے آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی بحالی کی امید ظاہر کی۔ اس کے باوجود سمندری سکیورٹی خدشات برقرار ہیں۔
