پاکستان سمیت 8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے غزہ میں اسرائیلی خلاف ورزیوں پر مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیاہے جس میں پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب،یواےای نے غزہ میں اسرائیلی اقدامات کی شدید مذمت کی ہے ۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق غزہ میں اسپتالوں، طبی مراکز اور صحت کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی گئی ہے ، شہری تنصیبات پرحملے،خواتین و بچوں سمیت شہریوں کی ہلاکتیں بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہیں، غزہ تنازع کے خاتمے کے جامع منصوبے پر عملدرآمد اسرائیلی خلاف ورزیوں سے متاثر ہو رہا ہے۔
صدرٹرمپ کے فلسطینی دھڑوں کی روڈ میپ پر رضامندی اعلان کے بعد بھی اسرائیلی کارروائیاں امن عمل کیلئےخطرہ ہیں، اسرائیلی اقدامات سیاسی عمل کوسبوتاژ، کشیدگی میں اضافے،انسانی بحران مزید سنگین بنانے کا باعث بن رہے ہیں۔ شہریوں، طبی مراکز، طبی عملے اور انسانی امدادی کارکنوں کا تحفظ بین الاقوامی قانونی ذمہ داری ہے۔
اعلامیہ میں غزہ بھرمیں انسانی امداد، طبی سامان،ریلیف کی فوری، محفوظ اور بلا رکاوٹ فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیاہے ۔ غزہ کی صورتحال کو مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد کاروں کے حملوں سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں غیرقانونی اسرائیلی بستیاں اور مقبوضہ یروشلم کی حیثیت تبدیل کرنےکی کوششوں کی مذمت کرتے ہیں، اسرائیل طاقت کے ذریعے زمینی حقائق تبدیل کر کے دو ریاستی حل کو نقصان پہنچا رہا ہے، فلسطینی عوام کے جائز حقوق سلب کرنے کی کوششیں اقوام متحدہ کی قراردادوں،بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔
اعلامیہ میں بین الاقوامی برادری خصوصا سلامتی کونسل سے قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں ادا کرنے ، اسرائیل کو عالمی قانون، بین الاقوامی انسانی قانون اور قرارداد 2803 پر عملدرآمد کا پابند بنانے کا مطالبہ کیا گیاہے جبکہ سنگین خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں کا احتساب یقینی بنانے پر زور دیا گیاہے ۔
غزہ میں مستقل جنگ بندی اورمعاہدے پر مکمل عملدرآمد کیلئے موثر بین الاقوامی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے کسی بھی حصے کے الحاق یا اسرائیلی خودمختاری مسلط کرنےکی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہیں، فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی کی ہر کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہیں۔
1967ء کی سرحدوں پر مشتمل آزاد،خودمختار فلسطینی ریاست ہی مسئلےکا منصفانہ اور دیرپا حل ہے، مشرقی یروشلم بطور دارالحکومت آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیا گیاہے ۔ دو ریاستی حل کیلئےسنجیدہ سیاسی عمل کا آغاز ہی خطےمیں منصفانہ اور جامع امن کا واحد راستہ ہے۔
