حوثی اکثریتی تنظیم انصار اللہ کے سیاسی بیورو کے عہدیدار نصرالدین امیر نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کی کارروائیوں کے احکامات ایران سے نہیں آتے۔
امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نصرالدین امیر نے کہا کہ سعودی عرب کے خلاف اقدامات کے لیے حوثیوں کو ایران سے احکامات لینے کی ضرورت نہیں۔
نصرالدین امیر کے مطابق حوثیوں کی فوجی کارروائیوں کی وجہ سعودی عرب کی جانب سے حوثی گروپ کے خلاف مبینہ جارحانہ اقدامات ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر اقتصادی اور فضائی ناکہ بندی نے یمن میں سنگین انسانی بحران پیدا کیا۔
انصار اللہ کے عہدیدار نے کہا کہ سعودی اقدامات حوثیوں کو مزید فیصلہ کن کارروائیوں کی طرف بڑھنے کے لیے کافی ہیں۔
نصرالدین امیر نے کہا کہ حوثیوں کی فوجی کارروائیوں کے لیے کسی بیرونی ایجنڈے یا اضافی ہدایات کی ضرورت نہیں۔
ان کے بقول انصار اللہ اپنے فیصلے خود کرتی ہے اور سعودی عرب کے خلاف کارروائیوں کا تعلق یمن کی موجودہ صورتحال سے ہے۔
یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حوثیوں کے ایران کے ساتھ تعلقات اور مبینہ عسکری تعاون مسلسل عالمی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔
حوثی رہنما نے کہا کہ فوجی کارروائیاں رکوانے کے لیے سعودی عرب کو مبینہ ناکہ بندی ختم کرنا ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ جب تک ناکہ بندی برقرار رہے گی، حوثیوں کی جانب سے کارروائیوں کے خاتمے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
نصرالدین امیر نے سعودی عرب پر زور دیا کہ وہ یمن میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنے اقدامات پر نظرثانی کرے۔
