کینیڈا میں جنگلاتی آگ بے قابو، 20 ہزار سے زائد افراد انخلا پر مجبور، ایمرجنسی نافذ

کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا میں تیزی سے پھیلتی جنگلاتی آگ کے باعث ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔

حکام کے مطابق 20 ہزار سے زائد افراد کو اپنے گھر خالی کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ تیز ہواؤں اور خشک موسم کے باعث آگ انتہائی تیزی سے پھیل رہی ہے۔

حکام کے مطابق بالڈ رینج جنگلاتی آگ قابو سے باہر ہو رہی ہے۔

آگ کا رقبہ راتوں رات تقریباً دوگنا ہوگیا۔ یہ بڑھ کر تقریباً 9,500 ہیکٹر تک پہنچ گیا ہے۔

آگ نے اوکاناگن جھیل کے مغربی علاقوں کو متاثر کیا ہے۔ سمر لینڈ اور پیچ لینڈ سمیت کئی علاقوں میں انخلا کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

یہ خطہ برٹش کولمبیا کی شراب سازی کی صنعت کے لیے بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔

برٹش کولمبیا کے پریمیئر ڈیوڈ ایبی نے صورتحال کو انتہائی خطرناک قرار دیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایک فائر اہلکار نے آگ کی شدت کو "بم پھٹنے” سے تشبیہ دی۔

ایبی کے مطابق آگ کے شعلے درختوں سے کہیں زیادہ بلند ہو رہے ہیں۔ شدید گرمی کے باعث آگ اپنا موسمی نظام بھی پیدا کر رہی ہے۔

اس عمل کے دوران بجلی پیدا ہونے سے آگ مزید پھیل سکتی ہے۔

پریمیئر ڈیوڈ ایبی کے مطابق آگ کے نتیجے میں مکانات اور دیگر املاک تباہ ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کچھ افراد تیزی سے بدلتے حالات کے باعث اپنے علاقوں میں پھنس گئے تھے۔ امدادی ٹیموں نے انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔

حکام کے مطابق صورتحال مسلسل تبدیل ہو رہی ہے۔ اس لیے متاثرہ علاقوں میں رہنے والے افراد کے لیے خطرہ برقرار ہے۔

2021 کی مردم شماری کے مطابق سمر لینڈ کی آبادی تقریباً 12 ہزار ہے۔

پیچ لینڈ میں تقریباً 6,500 افراد رہائش پذیر ہیں۔

ان علاقوں کے علاوہ برٹش کولمبیا کے دیگر حصوں میں بھی ہزاروں افراد کو انخلا کے احکامات یا وارننگز کا سامنا ہے۔

برٹش کولمبیا حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہنگامی حالت نافذ کردی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے