امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات جلد شروع ہوں گے،ترجمان دفتر خارجہ

ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ براہِ راست مذاکرات جلد شروع ہوں گے۔

ترجمان دفترخارجہ طاہر اندرابی نےہفتہ وارپریس بریفنگ میں کہا ہےکہ مکہ معاہدہ بنیادی طور پردفاعی نوعیت کا ہے اور اسکا مقصدخطے میں امن و سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔

ترجمان نےکہامکہ معاہدہ تینوں ممالک کےبرادرانہ تعلقات میں اہم پیشرفت اور علاقائی امن و استحکام کےعزم کاعکاس ہے،معاہدےکے حوالےسےتمام قواعدوضوابط پرعمل کیاگیا اوراس پروزیراعظم پاکستان کے دستخط ہیں۔

طاہراندرابی نے قومی قیادت یا ریاستی اداروں کے درمیان مکہ معاہدے کے حوالے سے اختلاف کے تاثر کو مسترد کرتےہوئےکہا کہ معاہدہ پاکستان کےعوام کی امنگوں کے مطابق ہے،معاہدے کے تحت ایک ملک پر حملہ تینوں پرحملہ تصور ہوگا۔

ترجمان دفترخارجہ نےکہا پاکستان تمام چیلنجز کےباوجود امن کیلئے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے،عمان اور ایران کےمذاکرات کوپاکستان اوردوست ممالک سپورٹ کررہےہیں اورتوقع ہےکہ مشکلات کے باوجود براہِ راست مذاکرات جلد شروع ہوں گے،آبنائے ہرمز کےحوالے سےکسی بھی معاہدے کی بہت اہمیت ہوگی۔

ترجمان دفترخارجہ نےباب المندب میں تجارتی جہاز پرحوثیوں کےحملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا حملے سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کےخطرات میں اضافہ ہوا،پاکستان بین الاقوامی پانیوں میں آزادانہ اور محفوظ جہازرانی کی حمایت کرتا ہے۔

مزیدکہاکہ پاکستان سعودی قیادت میں بحری سلامتی کےحوالے سےقائم اتحادکاحصہ ہے اور بین الاقوامی پانیوں میں محفوظ جہازرانی یقینی بنانےکیلئے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کو تیار ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نےکہا اسرائیلی وزیراعظم کا بیان غزہ بورڈ آف پیس کے فیصلے کیلئے دھچکا ہے، آزاد فلسطینی ریاست کا قیام بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے