امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور اعلیٰ معاون جیرڈ کشنر نے مصر کے ساحلی شہر العالمین میں حماس کے رہنما خلیل الحیا سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں غزہ میں حماس کو غیر مسلح کرنے اور انتظامی اختیارات منتقل کرنے کے معاملے پر بات ہوئی۔ یہ بات ایک عرب سفارت کار نے ٹائمز آف اسرائیل کو بتائی۔ سفارت کار کے مطابق ملاقات اتوار کو ہوئی۔
جیرڈ کشنر کے ساتھ بورڈ آف پیس کے سینئر ایلچی نکولے ملاڈینوف بھی موجود تھے۔ سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر بھی ملاقات میں شریک ہوئے۔مصر، قطر اور ترکی کے اعلیٰ سفارت کاروں نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ ملاقات کا مقصد غزہ کے لیے پیش کیے گئے منصوبے پر عمل درآمد کی راہ ہموار کرنا تھا۔
عرب سفارت کار کے مطابق کشنر نے حماس پر ہتھیار چھوڑنے کے عمل کو شروع کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ حماس نے 30 جولائی کو بورڈ آف پیس کے تخفیف اسلحہ منصوبے سے اتفاق کیا تھا۔ خلیل الحیا نے کشنر کو بتایا کہ حماس اس منصوبے کے لیے پرعزم ہے۔ تاہم، حماس اس پر عمل درآمد اسرائیل کی جانب سے معاہدے کی پاسداری سے مشروط سمجھتی ہے۔ سفارت کار کے مطابق حیا نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے منصوبے کو مسترد کرنے کا بھی حوالہ دیا۔
سفارت کار نے بتایا کہ کشنر نے حیا کو امریکی منصوبے کے بارے میں یقین دہانی کرائی۔ ان کے مطابق، بورڈ آف پیس اسرائیل پر غزہ میں حملے روکنے کے لیے دباؤ ڈالے گا۔ کشنر نے یہ بھی کہا کہ حماس کے ہتھیار چھوڑنے کے ساتھ اسرائیلی فوج غزہ سے مرحلہ وار انخلا کرے گی۔ نیتن یاہو کا مؤقف اس سے مختلف ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کہہ چکے ہیں کہ حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے تک فوج غزہ سے نہیں نکلے گی۔
