معروف برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے پاکستان کو دنیا کے ان چند منفرد مقامات میں شامل کیا ہے جہاں برف پوش پہاڑ، پُرسکون وادیاں، قدیم تہذیب اور مہم جوئی آج بھی سیاحوں کو ایک منفرد دنیا دریافت کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
دی ٹیلی گراف میں شائع ہونے والا یہ ٹریول فیچر معروف ٹریول رائٹرز بینیڈکٹ ایلن اور سارہ مارشل نے تحریر کیا ہے جس میں انہوں نے اپنے قارئیں کوپاکستان کے ان دلفریب مقامات کی سیاحت کی ترغیب دی ہے۔
خصوصی ٹریول فیچر میں شمالی پاکستان کے دلکش مناظر کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے جہاں قراقرم کے برف پوش پہاڑوں کی کئی چوٹیاں 25 ہزار فٹ سے بھی بلند ہیں۔
خصوصی سیاحتی مضمون میں پاکستان کو حقیقی معنوں میں ’بلند و بالا پہاڑوں کی سرزمین‘ قرار دیا گیا ہے، ٹیلی گراف نے خوبصورت وادی ہنزہ، بلند گلیشیئرز، جنگلی پھولوں سے بھرے میدانوں اور شاہراہِ قراقرم کو بھی نمایاں کیا ہے۔
اخبار نے شاہراہِ قراقرم کو انجینئرنگ کا ایک شاندار کارنامہ قرار دیا ہے جو پاکستان کو چین سے ملاتی ہے اور قراقرم، ہمالیہ اور ہندوکش کے شاندار پہاڑی سلسلوں سے گزرتی ہے۔
مضمون میں ان دور دراز پہاڑی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی سادگی، گرمجوشی اور مہمان نوازی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
معروف ٹریول رائٹرز بینیڈکٹ ایلن اور سارہ مارشل لکھتے ہیں کہ سیاح یہاں نہ صرف قدرت کے حیرت انگیز مناظر دیکھ سکتے ہیں بلکہ مقامی لوگوں کی زندگی، روایات اور ثقافت کو بھی قریب سے جان سکتے ہیں۔
پہاڑوں کے ساتھ ساتھ دی ٹیلی گراف نے پاکستان کے عظیم تاریخی اور ثقافتی ورثے کو بھی سراہا ہے۔
رپورٹ میں قدیم شاہراہِ ریشم، لاہور کی 17ویں صدی کی بادشاہی مسجد اور ہزاروں سال قدیم وادی سندھ کی تہذیب کا خصوصی ذکر کیا گیا ہے۔
ایک معروف برطانوی اخبار کی جانب سے پاکستان کو اس اہم سیاحتی فہرست میں شامل کیا جانا اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ پاکستان دنیا کے لیے ایک منفرد اور دلکش سیاحتی مقام ہے۔
دی ٹیلی گراف کی اس فہرست میں پاکستان کے علاوہ ترکمانستان، گیبون، انگولا، تیمور لیستے، نکاراگوا، گیانا، آرمینیا اور جمہوریہ کانگو سمیت ویسٹ پاپوا اور پاپوا (انڈونیشیا) کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
یاد رہے دی ٹیلی گراف نے 2024میں بھی اپنی سیاحتی فیچر رپورٹ میں پاکستان کو شامل کیا تھا۔
