سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی تمام میڈیکل رپورٹس طلب کرلیں

سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی تمام میڈیکل رپورٹس طلب کرلیں۔

جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے عمران خان کی صحت اور اہل خانہ سے ملاقاتوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ بینچ میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔

عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی تمام میڈیکل رپورٹس، 3 سال کے دوران ہونے والی ملاقاتوں اور بچوں سے ٹیلی فون پر گفتگو کرانے کی تفصیلات بھی منگوالی۔ جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیئے کہ جب میڈیکل ریکارڈ عدالت میں آجائے گا وہ خفیہ نہیں رہے گا۔ جسٹس نعیم افغان نے فریقین سے کہا کہ بانی کی صحت پر سیاست نہیں ہوگی۔

جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا میڈیکل ریکارڈ دینے میں کیا مسئلہ ہے؟ جو مواد دیا گیا ہے وہ صرف میڈیکل رپورٹ کی سمری ہے، تمام ریکارڈ جمع کرایا جائے۔ ریکارڈ عدالت میں آئے گا تو وہ خفیہ نہیں رہے گا۔

جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ بہنوں کی ملاقات کے حوالے سے کیا کہتے ہیں؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو ملاقات نہیں ہوگی، جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ اگر وہ قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے تو کیا آپ بھی کریں گے؟ بہنوں سے ملاقات کوئی احسان نہیں بلکہ ان کا بنیادی حق ہے۔

جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ ریاست کا کام نہیں کہ قانون کی خلاف ورزی کرے، اسلام آباد ہائیکورٹ کی ہدایات پر عمل کیوں نہیں ہو رہا؟ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے بتایا کہ بہنوں کی 3 سال کے دوران 48 ملاقاتیں کروائی گئی ہیں۔

وکیل عزیر بھنڈاری نے عدالت کو بتایا کہ بہنوں کی ملاقات کرائی جائے، وہ میڈیا ٹاک نہیں کریں گی، جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ ایک بات طے کرلیں کہ بانی کی صحت پر سیاست نہیں ہوگی، سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی سے بہنوں کی ملاقاتوں کی تمام تفصیلات طلب کر لیں، تمام ملاقاتوں اور بانی کی بچوں سے بات کروانے کا ریکارڈ بھی مانگ لیا گیا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے