ایرانی صدر کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات: علاقائی امن، سلامتی اورپاکستان کی سفارتی کوششوں پر گفتگو

ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے حوالے سے اپنا لہجہ اور طرزِ عمل تبدیل کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دباؤ اور دھمکیوں کا راستہ اختیار کرنے سے اسلام آباد معاہدے پر عمل درآمد مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ پیزشکیان نے یہ بات پیر کی شام پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کے دوران کہی۔ ملاقات میں علاقائی امن، سلامتی اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر بھی گفتگو ہوئی۔

ایرانی صدر نے علاقائی امن و سلامتی کے فروغ کے لیے پاکستان کی تعمیری ثالثی کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مسلسل تعاون سے اسلام آباد معاہدے میں طے کیے گئے اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ پیزشکیان نے کہا کہ امریکا کو ایران کے جائز حقوق اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق اپنے وعدوں کا احترام کرنا چاہیے۔

انہوں نے واضح کیا کہ واشنگٹن کو ایران سے بات چیت کے لیے اپنا لہجہ اور طریقہ کار تبدیل کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق جبر اور دھونس پر انحصار معاہدے پر عمل درآمد کے عمل کو مزید مشکل بنا سکتا ہے۔ ایرانی صدر نے قومی اتحاد اور ہم آہنگی کو ملک کی مزاحمت کی اہم وجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم متحد ہو کر ہر قسم کے دباؤ اور خطرات کا مقابلہ کر سکتی ہے۔

پیزشکیان نے پائیدار علاقائی امن و سلامتی کو بھی ضروری قرار دیا۔ انہوں نے مسلم ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران مسلم اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ اقتصادی، سیاسی اور سکیورٹی شعبوں میں تعاون کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام امن اور دوستی کی حمایت کرتا ہے۔

پیزشکیان نے مسلم ممالک کے درمیان اتحاد کو اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں موجود خطرات اور سازشوں کا مقابلہ مشترکہ تعاون سے کیا جا سکتا ہے۔ ایرانی صدر نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کی سفارتی کوششیں خطے اور مسلم دنیا کے لیے امن، خوشحالی اور استحکام کا باعث بنیں گی۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی علاقائی امن اور استحکام کے لیے ایرانی صدر کی کوششوں کو سراہا۔ پاکستانی آرمی چیف نے کہا کہ مشترکہ مقاصد کے حصول اور جامع معاہدے تک پہنچنے کے لیے سفارتی عمل کو انتہائی احتیاط کے ساتھ آگے بڑھانا ہوگا۔ انہوں نے پاکستان اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے دوطرفہ تعاون کا خیرمقدم کیا۔ عاصم منیر نے دونوں ممالک کے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی تعلقات کو اہم اثاثہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعلقات موجودہ پیچیدہ حالات سے نمٹنے اور بہتر مستقبل کی تعمیر میں مدد دے سکتے ہیں۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاکستان کی سابقہ سفارتی کوششوں کا حوالہ بھی دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد اپنا سہولت کار کردار عزم کے ساتھ جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق پاکستان کو امید ہے کہ بحران کے خاتمے کے بعد تعمیر نو اور علاقائی ترقی کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس کے ساتھ اجتماعی سلامتی پر مبنی تعاون کا نیا باب بھی کھل سکتا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے