پاکستان اور او آئی سی میں تنازعات کے متبادل حل کے لیے شراکت داری

پاکستان نے تجارتی اور دیگر تنازعات کو عدالتوں سے باہر حل کرنے کے لیے او آئی سی کے آربٹریشن سنٹر کے ساتھ شراکت داری اختیار کرلی ہے۔ اس تعاون کا مقصد تنازعات کو طویل عدالتی کارروائی میں لے جانے کے بجائے باہمی مشاورت، ثالثی اور سفارتی ذرائع سے جلد حل کرنا ہے۔

پاکستان کے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق متبادل تنازعاتی حل کا نظام بین الاقوامی ثالثی کے مروجہ طریقوں سے قریب تر ہے۔ اس نظام سے تجارتی تنازعات کم وقت اور کم اخراجات میں حل کیے جا سکتے ہیں۔

یہ پیش رفت پاکستان آربٹریشن سنٹر اور او آئی سی آربٹریشن سنٹر کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد سامنے آئی ہے۔ معاہدے کے تحت دونوں ادارے پیشہ ورانہ مہارت، معلومات اور متعلقہ موضوعات پر مطبوعات کا تبادلہ کریں گے۔ دونوں فورمز اپنی ٹیموں کی استعداد بڑھانے کے لیے سیمینارز اور کانفرنسز بھی منعقد کریں گے۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پاکستان ثالثی کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنا چاہتا ہے۔ اس مقصد کے لیے بین الاقوامی فورمز اور اداروں کے ساتھ تعاون بڑھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تجارتی تنازعات کے جلد حل کے ساتھ ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے بھی اقدامات کر رہا ہے۔

وزیر قانون کے مطابق پاکستان میں تجارتی اور ٹیکس سے متعلق بعض معاملات کو عدالتوں سے باہر حل کرنے کی کوششیں پہلے ہی جاری ہیں۔ اس طریقہ کار کے ذریعے ایسے تنازعات جو پہلے برسوں میں حل ہوتے تھے، اب کم وقت میں نمٹائے جا سکتے ہیں۔

او آئی سی آربٹریشن سنٹر اور آئی ایم اے سی اسلام آباد میں پانچ روزہ پروگرام بھی منعقد کر رہے ہیں۔ پروگرام کا مقصد سول، کمرشل اور شریعت سے متعلق معاملات میں ثالثی کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔ او آئی سی آربٹریشن سنٹر کے سیکریٹری جنرل عمر اے اوسینی نے کہا کہ نیا معاہدہ دونوں اداروں کے درمیان تعاون کو وسیع کرنے کی خواہش ظاہر کرتا ہے۔ ان کے مطابق اس شراکت داری سے بین الاقوامی سطح پر تعاون کے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے