ٹک ٹاک نے امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے امریکا کے ساتھ جوائنٹ وینچر معاہدہ کر لیا

0

واشنگٹن –  معروف ویڈیو شیئرنگ ایپلیکیشن ٹک ٹاک کے چینی مالک ادارے بائٹ ڈانس نے امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے امریکا کے ساتھ نئی جوائنٹ وینچر ڈیل کر لی ہے، جس کے تحت کمپنی کی ملکیت اور انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کی گئی ہے۔

کمپنی کے مطابق امریکی اکثریتی جوائنٹ وینچر کے قیام کے بعد ٹک ٹاک امریکی صارفین کے ڈیٹا، ایپلیکیشنز اور الگورتھم کو سخت ڈیٹا پرائیویسی اور سائبر سیکیورٹی اقدامات کے تحت محفوظ بنائے گا۔

معاہدے کے مطابق امریکی اور بین الاقوامی سرمایہ کار نئی قائم ہونے والی کمپنی میں 80.1 فیصد شیئرز کے مالک ہوں گے، جبکہ بائٹ ڈانس صرف 19.9 فیصد حصص اپنے پاس رکھے گا۔

اس پیش رفت کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹک ٹاک سے متعلق ایگزیکٹو آرڈر پر بھی دستخط کر دیے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے جوائنٹ وینچر معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ انہوں نے ٹک ٹاک کو بچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اب ٹک ٹاک دنیا کے عظیم امریکی محب وطن سرمایہ کاروں کے گروپ کی ملکیت میں ہوگا اور ایک مؤثر عالمی آواز کے طور پر کام کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ مستقبل میں ٹک ٹاک استعمال کرنے والے انہیں اس فیصلے کے لیے یاد رکھیں۔

امریکی صدر نے چینی صدر شی جن پنگ کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ چین نے اس معاہدے کی منظوری دے کر تعاون کا مظاہرہ کیا۔ ٹرمپ کے مطابق چینی قیادت کوئی اور فیصلہ بھی کر سکتی تھی، مگر ایسا نہیں کیا گیا، جس پر وہ ان کے شکر گزار ہیں۔

اس جوائنٹ وینچر میں امریکی کلاؤڈ کمپیوٹنگ کمپنی اوریکل، پرائیویٹ ایکویٹی گروپ سلور لیک اور ابوظبی کی سرمایہ کاری کمپنی ایم جی ایکس شامل ہیں۔

سیاسی و تجزیاتی ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ نہ صرف ٹک ٹاک کے مستقبل کو محفوظ بنائے گا بلکہ امریکا اور چین کے درمیان جاری ٹیکنالوجی کشیدگی میں ایک اہم موڑ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.