کراچی کے اسپتال میں میڈیکل رپورٹ میں غیر حاملہ خاتون کے زندہ بچہ پیدا کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
کراچی سینٹرل پولیس نے ماہرانہ تفتیش سے ناظم آباد کے نجی اسپتال میں سی سیکشن سے پیدا بچہ چوری ہونے کے الزامات کے معاملے کو خوش اسلوبی سے سلجھا دیا تھا اور میڈیکو لیگل رپورٹ اور تفتیش میں یہ حقیقت سامنے لائی گئی کہ خاتون حاملہ نہیں تھی اور اس نے سماجی دباؤ کے تحت اسپتال میں داخل ہوکر آپریشن کرایا۔
اگر ایسا نہ ہوتا تو خاتون کی میڈیکل فائل میں ڈیلیوری آپریشن کے نوٹس انتہائی سنگین ہیں جو اسپتال کے کئی ذمہ داروں کے خلاف نوزائیدہ بچے کی چوری کا مقدمہ درج کرنے اور جرم بھی ثابت کرنے کے لیے ٹھوس ثبوت ہیں۔
کیونکہ میڈیکل رپورٹ میں خاتون کے سی سیکشن کے بعد زندہ اور تندرست و توانا بچہ پیدا ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
یہ آپریشن نوٹس نجی اسپتال میں خاتون کی میڈیکل فائل کا حصہ ہے جس پر ہیلتھ کمیشن تحقیقات کر رہا ہے، نجی اسپتال کے آپریشن نوٹس کمپیوٹرائزڈ نہیں بلکہ ڈاکٹر کے ہاتھ سے لکھے ہیں، جس سے غلطی کی قطعی گنجائش نہیں۔
رپورٹ میں زوبیا راشد کی بطور مریضہ آئی ڈی 7258 ہے اور رپورٹ کے مطابق 27 اگست کو خاتون کے حمل کو 40 ہفتے مکمل ہو چکے تھے۔
ڈیلیوری آپریشن کے نوٹس کے مطابق حمل کی وجہ سے مریضہ کو ہائی بلڈ پریشر کا مسئلہ تھا، بچہ دانی کا منہ قدرتی ڈیلیوری کے لیے خود سے تیار نہیں تھا۔
رپورٹ کے مطابق بچہ دانی کی تنگی کی وجہ سے سیزیرین آپریشن کرنا پڑا، مریضہ کو اینستھیزیا ڈاکٹر شہزاد نے دیا اور کمر میں سپائنل انجکشن لگایا گیا، حاملہ خاتون کے بچے کی پیدائش کا آپریشن ڈاکٹر عائشہ نے کیا۔
رپورٹ میں شامل یہ 4 الفاظ "An Alive baby delived” یعنی آپریشن سے خاتون کے پیٹ سے زندہ بچہ پیدا ہوا اور آپریشن کے وقت بچہ دانی میں بچے کی پوزیشن سیدھی تھی، آپریشن نوٹس میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ پیدائش کے بعد بچے کی ناف سے نال کو مکمل طور پر اور بحفاظت باہر نکالا گیا۔
پیدائش کے بعد بچہ دانی کی تمام تہوں کو اپنی جگہ ٹانکے لگا کر اچھی طرح بند کیا گیا اور مریضہ کے خون کا بہاؤ کنٹرول میں تھا، آپریشن کے بعد تمام اوزاروں و پٹیوں کی گنتی پوری رکھی گئی۔
پولیس تفتیش کے مطابق خاتون سے 70 ہزار روپے کے چارجز وصول کیے گئے تھے جو مختلف خدمات سرانجام دینے والے افراد کو تقسیم کیے گئے۔ جس طرح کسی نے اس خاتون کا حمل چیک کرنے کی کوشش نہیں کی اور میڈیکل آپریشن کے نوٹس لکھنے والی ڈاکٹر نے بھی قبل از وقت ہی یہ کام سر انجام دے دیا ورنہ اگر آپریشن کے بعد نوٹس لکھے جاتے تو رپورٹ کبھی بھی یہ نہیں ہوتی۔
پولیس کے مطابق چونکہ خاتون کے حاملہ نہ ہونے کا معاملہ سامنے آچکا ہے، اس لیے یہ رپورٹ اتنی اہم نہیں لیکن اسپتال کی انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کا پردہ فاش کرتی ہے۔
یہ رپورٹ اس میڈیکل یونیورسٹی اسپتال کی ہے جہاں خطیر رقم کی فیس کے طور پر جمع کرانے والے ڈاکٹروں کی تربیت کی جاتی ہے۔
