وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے نئے صوبوں پر بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ 15 سال سے بیشتر سماجی اور انسانی وسائل کے اشارئیے تنزلی کا شکار ہیں، ان اشاریوں میں نمایاں بہتری کے بغیر ترقی کے اہداف حاصل نہیں ہو سکتے۔
تفصیلات کے مطابق احسن اقبال نے کہا کہ سماجی شعبے میں ناقص کارکردگی کی بڑی وجہ 18ویں ترمیم کے بعد کے حالات ہیں، ترمیم کے بعد نچلی سطح تک اختیارات اور وسائل منتقلی نہیں ہوئے، قومی ترقی تیز کرنے کیلئے انسانی وسائل اور سماجی شعبوں میں کمزوری پر قابو پانا ہوگا، تیزی سے کمزوری پر قابو پانے کیلئے ملک کے پاس 2 ہی آپشن ہیں، پہلا آپشن 160 اضلاع میں بااختیار مقامی حکومتیں قائم کرنا ہیں، مقامی حکومتوں کو صوبائی فنانس کمیشن سے براہ راست وسائل فراہم ہونے چاہئیں، یا پھر دوسرا آپس اتفاق رائے سے 12 یا 15 نئے صوبوں کا قیام ہے۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ 26 کروڑ کی آبادی سے موجودہ انتظامی ڈھانچہ اوور لوڈ کا شکار ہو چکا ہے، 160 ضلعی حکومتیں وقت کی ضرورت ہیں تاکہ اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہوں، ہر شعبے میں نتائج کا انحصار منصوبوں پہ مؤثر عملدرآمد اور مقامی نگرانی پر ہوتا ہے، دنیا بھر میں اختیارات عوام کی دہلیز پر منتقل کئے جا رہے ہیں، سروس ڈیلیوری لوگوں کے قریب لے جانے کی ہمارے ہاں کوئی مؤثر کاروائی نہیں ہوئی۔
