جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہےکہ پنجاب میں امن وامان ہےلیکن دو صوبوں میں امن وامان تباہ ہے، کے پی میں عملاً کوئی حکومت نہیں، ہم سے بھی بھتہ مانگا جاتاہے، میرے بیٹوں، بھتیجوں پر حملے ہوئےکیونکہ ہم بھتہ نہیں دیتے۔
لاہور میں سینئر صحافیوں کے ساتھ سیاسی صورتحال پرگفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ میں نے دو دفعہ پارلیمنٹ میں ان کیمرہ اجلاس کامطالبہ کیا لیکن نہیں مانا گیا، پاکستان میں نہ ہی پاکستانی سرمایہ کاری کر رہےہیں نہ ہی باہرکے سرمایہ کار، ہماری تجارت کا دارومدار وسط ایشیا پر تھا، اب تجارت بھی بند ہے، ہماری سبزیاں اورپھل وسط ایشیا جاتے تھے وہ ختم ہوگیا۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ دھاندلی سے بنی ہے، این ایف سی ایوارڈ ان سے ہضم نہیں ہورہا، میں نےکہا ہمیں معدنی ذخائرکے معاملات کوپبلک میں لا کر نمٹانا چاہیے، اس میں وفاق، صوبوں اور عوام کا حصہ متعین ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی،صوبائی اور مقامی حکومتوں میں اختیارات تقسیم کیےجائیں تومسائل حل ہوجائیں گے، چھبیسویں ترمیم میں ہم نےانہیں 35 شقوں سے دستبردارکرایا، یہ ہمارے اورپی ٹی آئی کے اشتراک اور مشاورت کا نتیجہ تھا، ہم نے مشترکہ حکمت عملی کے لیے پی ٹی آئی کے ساتھ پارلیمنٹ میں الائنس تشکیل دیا۔
سربراہ جے یو آئی کا مزیدکہنا تھا کہ محسن نقوی کےحوالےسے میں اپنی غلطی کا اعتراف کرتا ہوں۔ جو میرا ذہن ہے وہی نواز شریف کا ذہن ہے، یہ اوربات ہےکہ میں بول رہا ہوں اور وہ خاموش ہیں۔
