سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سےمعاونت طلب کی ہےکہ عمران خان کی اسپتال منتقلی کا کیس وفاقی آئینی عدالت کیسے سن سکتی ہے؟
عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق کیس کی سماعت سپریم کورٹ کےجسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی،سماعت کے دوران بینچ ارکان نے آئینی عدالت کے حکمنامے کے پیراگراف 6 سے متعلق سوالات اٹھائے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد نےعدالت کوبتایاکہ وفاقی آئینی عدالت نےکل حکم نامہ جاری کیا ہے،اس مقدمے کا ریکارڈ طلب کیا ہے۔
جسٹس شاہد وحید نےکہاعدالت نے 18 اگست کے آرڈرمیں سرکاری افسران کو طلب کیا تھا،لیکن کوئی پیش نہیں ہوا،کیا افسران کا پیش نہ ہونا حکم عدولی نہیں؟کہیں نہ کہیں کوئی غلط فہمی موجود ہے، علاج سرکاری یا نجی اسپتال میں ہوگا،یہ پوائنٹ فی الحال سائیڈ پر رکھ دیں، کیا ہمارے آرڈر کے باقی حصے پر عمل ہو رہا ہے؟ کیا ملاقاتیں اور بچوں سے بات کرائی گئی؟جس پر اٹارنی جنرل عثمان منصور اعوان نے جواب دیا کہ حکم نامہ اب بھی مؤثر طور پر نافذ العمل ہے۔
جسٹس شاہد وحید نےریمارکس دیےکہ سپریم کورٹ کاحکم اب بھی قائم و دائم ہے،انہوں نے اڈیالہ حکام کو طلب کیےجانے کے باوجود پیش نہ ہونے پر بھی سوال اٹھایا اورکہا کہ کیا وارنٹ جاری کریں؟
اٹارنی جنرل نےمؤقف اختیارکیاکہ ممکن ہےآئینی عدالت کےگزشتہ روز کےحکم سےاڈیالہ حکام کو کنفیوژن ہوئی ہو،جس پرجسٹس شاہد وحید نےکہا کہ اب یہ کمیونیکیشن کا مسئلہ ہے یا بےاعتباری، کچھ نہ کچھ ہے۔
حکمنامےمیں کہا گیاکہ اسلام آباد ہائیکورٹ سےکچھ مقدمات آئینی عدالت پہنچے اور ان مقدمات میں بانی پی ٹی آئی کو دیے گئے عبوری ریلیف سے متعلق کارروائی کیلئے ریکارڈ طلب کیا گیا۔
عدالت کےحکم نامے کےمطابق یہ اپیلیں فوجداری مقدمے اور توہین عدالت کی درخواستوں سے متعلق ہیں، جبکہ گزشتہ سماعت پر سپریم کورٹ نے عبوری حکم نامہ جاری کیا تھا۔
جسٹس نعیم اخترافغان نےریمارکس دیےکہ ہم خدانخواستہ دو اداروں کا ٹکراؤ نہیں چاہتے، دونوں ادارے اپنے اپنےدائرہ اختیار میں رہ کر کام کریں،آئین کے آرٹیکل 175 ای میں ریکارڈ منگوانے کی حد تک کا ذکر ہے۔
وکیل سلمان اکرم راجا نےکہاکہ بانی پی ٹی آئی کی فوجداری اپیل میں کسی آئینی تشریح کی ضرورت نہیں تھی،توہین عدالت کی درخواستوں میں بھی آئین کی تشریح درکار نہیں،بانی پی ٹی آئی سےصرف ایک بہن کی ملاقات ہوسکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ عدالت کی آرٹیکل 175 ای سے متعلق بھی معاونت کریں گی۔
عدالت نےکیس میں مزیدمعاونت کیلئے اٹارنی جنرل کومہلت دیتے ہوئےکیس کی سماعت تین ہفتوں کیلئے ملتوی کردی۔
