پی ایچ ایف اور ٹیک ویلی پاکستان کے درمیان ڈیجیٹل معاہدہ

پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) اور ٹیک ویلی پاکستان کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوگئے۔معاہدے کا مقصد پاکستان میں ہاکی کے نظام کو جدید ڈیجیٹل خطوط پر استوار کرنا ہے۔ اس کے تحت انتظامی امور، کھلاڑیوں کی تربیت اور شائقین سے رابطے کو بہتر بنایا جائے گا۔

تقریب اسلام آباد میں ہوئی۔ پی ایچ ایف کے صدر محی الدین احمد وانی اور ٹیک ویلی پاکستان کے بانی و چیف ایگزیکٹو عمر فاروق نے معاہدے پر دستخط کیے۔تقریب میں گوگل کے عالمی نمائندے بھی موجود تھے۔

معاہدے کے تحت ٹیک ویلی پاکستان کو تین سال کے لیے پی ایچ ایف کا آفیشل ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پارٹنر مقرر کیا گیا ہے۔شراکت داری کے تحت پی ایچ ایف اور اس سے منسلک علاقائی اداروں کے ڈیجیٹل نظام کو بہتر بنایا جائے گا۔سلیکشن کمیٹیوں کے ریکارڈ اور رابطہ کاری کا نظام بھی منظم کیا جائے گا۔

منصوبے کے تحت ماضی کے میچز کا ریکارڈ ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کیا جائے گا۔کھلاڑیوں کے ریکارڈ اور انتظامی دستاویزات کو بھی مرکزی نظام میں منتقل کیا جائے گا۔اس مقصد کے لیے ڈیجیٹل پلیئر پرفارمنس اینڈ ٹیلنٹ ڈیٹا بیس قائم کرنے کی تجویز ہے۔اس ڈیٹا بیس میں گراس روٹ اور کلب ہاکی سے قومی ٹیم تک کھلاڑیوں کی معلومات شامل ہوں گی۔کارکردگی، فٹنس اور میڈیکل ریکارڈ بھی اس نظام کا حصہ ہوں گے۔

معاہدے میں کوچنگ اسٹاف کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا منصوبہ بھی شامل ہے۔کوچز میچز کی ویڈیوز کا تجزیہ کرسکیں گے۔ انہیں کھلاڑیوں کی کارکردگی جانچنے کے لیے جدید تجزیاتی ٹولز بھی فراہم کیے جائیں گے۔مصنوعی ذہانت کی مدد سے حریف ٹیموں کے خلاف حکمت عملی تیار کرنے میں بھی مدد لی جائے گی۔

ایم او یو میں پی ایچ ایف کے منتظمین، کوچز اور اسپورٹس مینیجرز کے لیے تربیتی پروگرام شامل ہیں۔ان کے لیے سرٹیفیکیشن پروگرام بھی متعارف کرائے جائیں گے۔علاقائی ہاکی اکیڈمیوں کو بھی ڈیجیٹل نظام استعمال کرنے کی تربیت دی جائے گی۔ اس میں کھلاڑیوں کی رجسٹریشن اور میچ رپورٹس کی تیاری شامل ہے۔

شراکت داری کے تحت شائقین کے لیے ڈیجیٹل سہولیات بھی بہتر بنانے کا منصوبہ ہے۔اس میں پرانے میچز کے ڈیجیٹل آرکائیوز شامل ہوں گے۔ لائیو اسٹریمنگ اور بروقت نتائج بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر فراہم کیے جائیں گے۔ ٹیک ویلی پاکستان تکنیکی مشاورت فراہم کرے گا۔ کمپنی ڈیٹا منتقلی اور منصوبے کی کوآرڈینیشن میں بھی معاونت کرے گی۔

پی ایچ ایف اور ٹیک ویلی کے مطابق ایم او یو بذات خود کوئی مالیاتی پابندی عائد نہیں کرتا۔متعلقہ اخراجات، سافٹ ویئر اور لائسنس کی خریداری کے لیے بعد میں الگ معاہدے کیے جائیں گے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے