خیبرپختونخوا کے عوام صوبائی حکومت سے وسائل کے استعمال کا حساب مانگیں: امیر مقام

مظفرآباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر مقام نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کو سب سے پہلے اپنی صوبائی حکومت سے سوال کرنا چاہیے کہ وفاقی حکومت سے ملنے والے وسائل تعلیم، صحت اور اداروں کی مضبوطی کے لیے کس طرح استعمال کیے گئے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام اس وقت دہشتگردی سمیت سنگین مسائل کا سامنا کر رہے ہیں اور بعض علاقوں میں شہریوں کے لیے معمولات زندگی متاثر ہوئے ہیں، ان کے بقول حکومت کی ترجیح عوام کو ان مشکلات سے نکالنا ہونی چاہیے۔

امیر مقام نے کہا کہ دہشتگردی کے واقعات میں لوگ اپنے پیاروں سے محروم ہو رہے ہیں جبکہ سوات، جنوبی اضلاع اور دیگر علاقوں میں بھی شہری مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج اور لانگ مارچ کے بجائے دہشتگردی سمیت عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے طویل عرصے تک خیبرپختونخوا میں حکومت کی، تاہم اب اپنی کارکردگی کے بجائے ناکامیوں کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی کی سیاست عوامی مسائل کے حل کے لیے ہے تو اسے خیبرپختونخوا کے عوام کو صوبے کو ملنے والے وسائل کے استعمال اور عوامی مشکلات کم کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کرنا چاہیے۔

پونچھ کے عوام کو آئینی نمائندگی ملنا مثبت پیغام ہے

امیر مقام نے آزاد کشمیر کے نومنتخب صدر ڈاکٹر محمد نجیب نقی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کا تعلق پونچھ ڈویژن سے ہے اور ان کا صدر منتخب ہونا وہاں کے عوام کے لیے مثبت پیغام ہے، ڈاکٹر نجیب نقی 24 ستمبر 2026 کو آزاد کشمیر کے صدر منتخب ہوئے اور 32 ووٹ حاصل کیے، جبکہ ان کے مدمقابل چوہدری لطیف اکبر نے 13 ووٹ حاصل کیے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پونچھ کے عوام میں یہ احساس پایا جاتا تھا کہ وہ حکومت اور نظام میں باہر ہیں، تاہم ڈاکٹر نجیب نقی کا صدر منتخب ہونا اس احساس کے خاتمے کی جانب اہم قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف نے آزاد کشمیر کے عوام سے جو وعدے کیے ہیں، ان پر کام جاری ہے، ترقیاتی منصوبوں کے علاوہ پانچ دانش اسکولوں کے قیام کے منصوبے پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔

امیر مقام نے راولاکوٹ اور پونچھ سے تعلق رکھنے والے افراد سے احتجاج اور دھرنے ختم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مسائل کا حل بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کے باعث ہونے والے نقصانات بھی بالآخر عوام ہی کو برداشت کرنا پڑتے ہیں، اس لیے احتجاج کے بجائے نظام کا حصہ بن کر عوامی مسائل اور فلاح و بہبود کے لیے بات کرنی چاہیے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کی بہتری اور فلاح کے لیے کوئی مطالبات ہوں تو حکومت ان پر بات چیت اور تعاون کے لیے تیار ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے