پاکستان ایس جی پالیسی رپورٹ لانچنگ سے خطاب کرتے ہوئے شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی تقریباً 537 کمپنیوں میں سے بہت کم کمپنیاں قابلِ اعتماد ماحولیاتی معلومات فراہم کر رہی ہیں، صرف 18 فیصد کمپنیوں کے بورڈز میں ای ایس جی امور سے متعلق تربیت یافتہ ڈائریکٹر موجود ہیں جبکہ صرف 11 فیصد کاروباری ادارے پائیداری رپورٹس جاری کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پائیداری رپورٹس میں صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ زمینی حقیقت سامنے آنی چاہیے اور ان کی آزادانہ تصدیق و نگرانی کا مؤثر نظام ہونا چاہیے، کمپنیوں کو پائیداری کے لیے ترغیبات دی جائیں اور خلاف ورزی پر جرمانوں کا متوازن نظام بنایا جائے۔
شیری رحمان نے کہا کہ تمام لسٹڈ کمپنیوں کے لیے ماحولیاتی، سماجی اور انتظامی امور کی رپورٹنگ لازمی بنانے کا مرحلہ وار نظام متعارف کرایا گیا ہے، یکم جولائی 2029 سے 25 ارب روپے سے زائد کاروبار، ایک ہزار سے زائد ملازمین یا 12.5 ارب روپے سے زائد اثاثوں والی کمپنیوں پر رپورٹنگ لاگو ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ یکم جولائی 2030 سے 12.5 ارب روپے سے زائد کاروبار، 500 سے زائد ملازمین یا 6.25 ارب روپے سے زائد اثاثوں والی مزید بڑی کمپنیوں پر رپورٹنگ لاگو ہوگی، یکم جولائی 2031 سے تمام باقی لسٹڈ کمپنیوں اور عوامی مفاد کی غیر لسٹڈ کمپنیوں کے لیے بھی رپورٹنگ لازمی ہوگی۔
نائب صدر پیپلز پارٹی نے کہا کہ 2026 سے 2027 کے دوران جرمانوں کے ساتھ کمپنیوں کے لیے مراعات شامل کرنے والے قانون پر کام ہوگا، نجی شعبے پر پہلے ہی ٹیکسوں کا بڑا بوجھ ہے، نئی ماحولیاتی پالیسی کمپنیوں پر غیر ضروری مالی بوجھ نہیں ڈالنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان گرین ٹیکسانومی کاروباری اداروں اور مختلف شعبوں کو پائیداری کے لیے مشترکہ زبان فراہم کرے گی اور اسے عالمی ماحولیاتی قوانین و یورپی یونین کے کاربن بارڈر نظام سے ہم آہنگ کرنا ہوگا، صرف جرمانوں پر مبنی قانون کا کوئی فائدہ نہیں، مراعات، واضح عملی طریقہ کار اور کاروباری شعبے کی شمولیت ضروری ہے۔
شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان میں مینوفیکچرنگ بڑھانے کے ساتھ صاف اور ماحول دوست پیداوار کو بھی فروغ دینا ہوگا، صاف ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری، اخراج میں کمی، توانائی کی بچت اور بہتر فضلہ انتظام کے لیے کمپنیوں کو مؤثر مراعات دینا ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی قوانین کی پابندی صرف کاغذی کارروائی رہی تو زمینی سطح پر حقیقی تبدیلی نہیں آئے گی، پاکستان نے آلودگی کے باعث اپنے لیے نیا ماحولیاتی بحران پیدا کر لیا ہے، لاہور کئی بار دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں سرفہرست رہا، ہوا کی آلودگی ہمارے اپنے اقدامات کا نتیجہ ہے، اس کی ذمہ داری بھی ہمیں خود اٹھانا ہوگی۔
نائب صدر پیپلز پارٹی نے کہا کہ ماحولیاتی پالیسی کے لیے قوانین کے ساتھ واضح حکمت عملی، اہداف اور قابلِ پیمائش نتائج مقرر کرنا ہوں گے، پاکستان میں شمسی توانائی کا انقلاب عوام کی اپنی ضرورت اور فیصلوں سے آگے بڑھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ برس میں پاکستان میں 50 گیگا واٹ سے زائد سولر پینلز درآمد کیے گئے جن کی مالیت تقریباً 18 ارب ڈالر بتائی گئی ہے، پاکستان کی سولر منتقلی نے ملک کے توانائی کے منظرنامے کو نمایاں طور پر تبدیل کر دیا ہے، اب اسے قومی توانائی منصوبہ بندی سے جوڑنا ہوگا۔
شیری رحمان نے کہا کہ شمسی توانائی کے ساتھ گرڈ، بیٹری اسٹوریج، تقسیم شدہ توانائی اور توانائی کی طلب کو بھی پالیسی میں شامل کرنا ہوگا، نیٹ میٹرنگ نے شمسی توانائی کو فروغ دیا لیکن اب اسے پائیدار اور منصفانہ انداز میں بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا فوسل ایندھن پر انحصار کم کر رہی ہے، پاکستان کو بھی صاف توانائی، توانائی خودکفالت اور ماحولیاتی لچک کے اہداف مقرر کرنا ہوں گے، پائیداری کے لیے صرف رپورٹنگ نہیں بلکہ واضح حکمت عملی، اہداف، کارکردگی کے پیمانے اور عملی نتائج ضروری ہیں۔
شیری رحمان نے کہا کہ قانون سازی سے پہلے کاروباری شعبے کو اپنی تکنیکی تیاری مکمل کرکے حکومت اور پارلیمنٹ کے سامنے قابلِ عمل حل پیش کرنا چاہیے، قانون سازی سے پہلے کم از کم تین قابلِ عمل پالیسی آپشنز اور ان کے ممکنہ نتائج سامنے لائے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ پائیداری کے لیے سیاسی، عوامی اور کاروباری عزم کے ساتھ ماہرین، مقامی برادریوں اور سول سوسائٹی کی شمولیت بھی ضروری ہے، کاروباری شعبے کو حکومت اور پارلیمنٹ سے قانون آنے کا انتظار کرنے کے بجائے خود پائیداری کے لیے قیادت کرنا ہوگی۔
نائب صدر پیپلز پارٹی نے کہا کہ ماحولیاتی لچک صرف حکومت سے نہیں بلکہ عوام سے پیدا ہوتی ہے، ای ایس جی قانون سازی کو پاکستان کی صنعتی ترقی، سرمایہ کاری اور روزگار کے اہداف سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔
شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان میں ای ایس جی کا مستقبل صرف رپورٹنگ نہیں بلکہ قابلِ پیمائش کارکردگی، شفاف اعداد و شمار اور عملی نتائج سے جڑا ہونا چاہئے۔
