سرکاری آمدن میں سالانہ بنیادوں پر 92 فیصد کی بڑی کمی ریکارڈ

حکومتی اخراجات اور آمدن سے متعلق چشم کشا انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ریاستی ملکیتی اداروں کی کارکردگی رپورٹ کے مطابق حکومت کے یومیہ اخراجات پونے 7 ارب روپے تک جاپہنچے ہیں ۔ مالیاتی خطرات 17 ہزار ارب روپے سے بھی تجاوز کرگئے ۔ سرکاری آمدن پچھلے سال کے 427 ارب روپے تھی جو سکڑ کر اب صرف 35 ارب 80 کروڑ روپے رہ گئی۔

پاکستان کی معیشت کو شدید مالیاتی خطرات کا سامنا ہے، ریاستی ملکیتی اداروں کی رپورٹ نے قومی خزانے کی ابتر صورتحال بے نقاب کر دی۔

رپورٹ کے مطابق حکومتی قرضے اور مالیاتی خطرات 17 ہزار  ارب روپے سے تجاوز کر گئے ، جو  وفاقی ٹیکس وصولیوں سے تقریباً ڈھائی گنا زیادہ ہیں۔ قومی خزانے کو روزانہ صرف 29 کروڑ 10 لاکھ روپے واپس مل رہے ہیں۔ مالی سال 2025-26  کی پہلی ششماہی میں اداروں کی مالیاتی آمدن میں 92 فیصد کی بڑی کمی دیکھی گئی۔ آمدن پچھلے سال کے 427 ارب روپے کے مقابلے میں گھٹ کر صرف 35 ارب اسی کروڑ روپے رہی۔

ملک میں سرمایہ کاری پر منافع صرف 1.26 فیصد، جبکہ آئل سیکٹر میں 453 سے 649 ارب روپے کے اضافے سے مزید مالیاتی نقصان کا خدشہ ہے ۔ دستاویز کے مطابق اداروں کا آن بیلنس شیٹ قرضہ 10 ہزار 99 ارب روپے۔ حکومتی گارنٹیز دو ہزار 132 ارب اور غیر فنڈڈ پنشن تین ہزار 382 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔

دستاویز کے مطابق جولائی سے دسمبر2025 تک ایس اوایز کا منافع 7 فیصد کم رہا۔ مجموعی منافع 457 ارب 20 کروڑ روپے سے کم ہو کر 423 ارب 23 کروڑ ریکارڈ کیا گیا۔

ایس او ایز کے اثاثوں میں بھی دو فیصد جبکہ ایکویٹی میں تین فیصد کمی دیکھی گئی۔ اثاثوں کی مجموعی مالیت 37 ہزار 107 ارب روپے رہی۔  جبکہ گزشتہ مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں سرکاری ملکیتی اداروں کے نقصانات میں معمولی کمی آئی۔

مجموعی نقصانات 342 ارب 90 کروڑ روپے سے کم ہو کر 342 ارب 80 کروڑ روپے پر آ گئے۔ ششماہی بنیادوں پر ایس او ایز کی مجموعی مالیاتی ذمہ داریوں میں بھی ایک فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے