اعلامیے کے مطابق اجلاس میں توانائی، سڑکوں، پانی، صحت، شہری ترقی اور فرانزک سائنس کے شعبوں سے متعلق منصوبوں کی منظوری دی گئی۔
خیبرپختونخوا میں منظور کیے گئے اہم منصوبوں میں لوئر دیر میں 40.8 میگاواٹ کوٹو پن بجلی منصوبے کی تعمیر شامل ہے۔
بلوچستان میں لسبیلہ کینال کی بحالی اور ازسرنو تعمیر، میرانی ڈیم سے گوادر کو پانی کی فراہمی کے منصوبے کی منظوری دی گئی، اس کے علاوہ بُلیڈہ۔ پرووم اور پرووم۔ چیدگئی سڑکوں کی تعمیر کے منصوبے بھی منظور کیے گئے۔
گلگت بلتستان میں مجموعی طور پر 100 میگاواٹ کے شمسی توانائی کے منصوبوں کی منظوری دی گئی جبکہ نیشنل گرڈ کمپنی کے نیٹ ورک میں ری ایکٹو پاور کمپنسیشن آلات کی تنصیب کی بھی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں پنجاب اربن لینڈ سسٹمز انہانسمنٹ پراجیکٹ پلس کی منظوری دی گئی، اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں کنگ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود ہسپتال کے قیام اور نیشنل فرانزک ایجنسی کے لیے خصوصی طور پر تیار کردہ لیبارٹری کے قیام کی بھی منظوری دی گئی۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت میں اور لاگت میں اضافے کے بغیر مکمل کرنے کی اہمیت پر زور دیا، انہوں نے متعلقہ حکام کو مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے اور طریقہ کار کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کی ہدایت کی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کا مقصد عوام کی فلاح و بہبود ہونا چاہیے
