امریکی سپریم کورٹ نے نائن الیون حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کی اپیل سننے سے انکار کر دیا ہے۔ اس اپیل میں 2024ء کے ایک معاہدے کی بحالی کی درخواست کی گئی تھی۔
اس معاہدے کے تحت جرم قبول کرنے کے بدلے خالد شیخ محمد کو سزائے موت سے استثنیٰ مل سکتا تھا۔ تاہم، سابق امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے یہ معاہدہ منسوخ کر دیا تھا۔ بعد ازاں اپیل کورٹ نے بھی اس منسوخی کو برقرار رکھا۔
خالد شیخ محمد کے ساتھ مصطفیٰ الہوساوی اور ولید بن عطاش بھی اس مقدمے میں ملزم ہیں۔ تینوں پر 11 ستمبر 2001ء کے دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ ان حملوں میں تقریباً 3 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق، سپریم کورٹ کے فیصلے سے حملوں کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی راہ ہموار ہوگی۔
فوجی عدالت نے تینوں ملزمان کے مقدمے کی سماعت جون 2028ء میں مقرر کر رکھی ہے۔
یہ مقدمہ گوانتاناموبے جیل میں قید ملزمان کے خلاف جاری ہے۔ دو دہائیوں سے اس کیس کو قانونی پیچیدگیوں کا سامنا ہے۔


