پی ٹی آئی میں داخلی اختلافات پھر شدت اختیار کرگئے۔
ایڈیشنل سیکریٹری جنرل فردوس شمیم نقوی نے پارٹی عہدہ چھوڑ دیا۔ فردوس شمیم نقوی نے اپنا استعفیٰ پارٹی قیادت کو بھجوادیا۔
پارٹی کے پارلیمانی گروپ اور سیاسی کمیٹی کو بھی فردوس شمیم نقوی کے استعفے سے آگاہ کردیا گیا۔ بیرسٹر گوہر نے فردوس شمیم نقوی کو ہدایت کی تھی کہ مشعال یوسفزئی کو نوٹس بھیجا جائے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز سلمان اکرم راجا کی پوسٹ نے تحریک انصاف میں بھونچال پیدا کردیا، سلمان اکرم راجا نے 67 ایم پی ایز پر نیا وزیراعلیٰ بنانے کا الزام لگادیا۔ لکھا کہ پی ٹی آئی کے اندرونی اتفاق پر اسوقت غیر جمہوری فیصلہ سازوں کا حملہ ہے، کسی بھی سازشی بیانیہ پر یقین نہ کیا جائے۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جنید اکبر کے بعد علی اصغر قائم مقام صوبائی صدر ہیں، وسوسہ پھیلانے والے سانپوں اور سنپولیوں کو شکست ہوگی۔
الزامات پر علی امین گنڈاپور کا بھی ردعمل آگیا ۔ پارٹی سیکرٹری جنرل سے معافی مانگنے کا مطالبہ کردیا۔ کہا یہ پارٹی کسی کی ملکیت نہیں، فیصلے عمران خان نے کرنے ہیں،کسی کے اوپر سانپ کے الزام لگانا سلمان اکرم کا اختیار نہیں۔
معاملے میں بیرسٹر گوہر کی بھی انٹری،ٹیلی فونک رابطے کرکے سب کو بیانات دینے سے روک دیا،کہا سہیل آفریدی ہی وزیر اعلیٰ تھے اور رہیں گے ،ہمیں اپنےایم پی ایز پر فخر ہے۔ عمران خان کے فیصلوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔


