Close Menu
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • کالمز
  • ملٹی میڈیا

Subscribe to Updates

Get the latest creative news from FooBar about art, design and business.

What's Hot

وزیراعظم پشاور پہنچ گئے، ترقیاتی پیکیج سمیت اہم اعلانات متوقع

اکتوبر 22, 2026

بچے کو یورین بیگ پکڑانے پر وزیرِتعلیم رانا سکندرحیات کے والد تنقید کی زد میں آگئے

اکتوبر 22, 2026

واشنگٹن میں پاک امریکا ٹیک کنیکٹ 2026 کے تیسرے ایڈیشن کا کامیاب انعقاد

اکتوبر 22, 2026
Facebook X (Twitter) Instagram
جمعرات, اکتوبر 22
Facebook X (Twitter) Instagram
English
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • کالمز
  • ملٹی میڈیا
Home»پاکستان»سپریم کورٹ نے ریکروٹمنٹ رولز 2014 بحال کر دیا، فیڈرل سروس ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم
پاکستان

سپریم کورٹ نے ریکروٹمنٹ رولز 2014 بحال کر دیا، فیڈرل سروس ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم

EditorBy Editorاکتوبر 22, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
Facebook Twitter Pinterest LinkedIn WhatsApp Reddit Tumblr Email
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

جسٹس عائشہ اے ملک نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا، سروس ٹریبونل نے 15 جولائی 2014 کے مرتب کردہ ریکروٹمنٹ رولز کو کالعدم قرار دیا تھا۔

عدالت کے تحریری فیصلے کے مطابق سروس ٹریبونل کو پالیسی امور اور ریکروٹمنٹ رولز کاؤنٹر یا ختم کرنے کا اختیار نہیں تھا، ٹریبونل کو اپنے دائرہ اختیار کی حدود کا خیال رکھنا چاہیے تھا، ٹریبونل خود کو ایگزیکٹو کے مقام پر فائز نہیں کر سکتا اور نہ ہی قواعد ازسرنو بنانے کی ہدایت دے سکتا ہے۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ ملازم کو یکم جنوری 2021 کو جونیئر آڈیٹر سے سینئر آڈیٹر کے عہدے پر ترقی مل چکی تھی، ملازم نے 2014 کے قواعد کے تحت ترقی حاصل کی اور بعد میں انہی قواعد کو چیلنج کیا۔

عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق جونیئر آڈیٹر سے اسسٹنٹ اکاؤنٹس آفیسر کے عہدے پر ڈائریکٹ پروموشنل جمپ کا کوئی قانونی یا ویسٹڈ رائٹ نہیں، ترقی بذاتِ خود کوئی بنیادی یا حاصل شدہ حق نہیں ہے۔

فیصلے میں واضح کیا گیا کہ حکومت کو انتظامی ضروریات کے مطابق سروس اسٹرکچر اور بھرتی کے قواعد میں ترمیم کا مکمل اختیار ہے، جونیئر آڈیٹر سے سینئر آڈیٹر (BS-16) کی ترقی کا کوٹہ 10 فیصد سے بڑھا کر مئی 2019 میں 50 فیصد کیا جا چکا ہے۔

تحریری فیصلے کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے 2017، 2019 اور 2021 میں انہی رولز میں ترمیم کی منظوری دی، بعد کی منظوریوں اور رولز کے تسلسل سے عملی نفاذ سے 2014 کے قواعد کی قانونی حیثیت برقرار رہتی ہے۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا کہ آئین کے آرٹیکل 212 کے تحت سروس ٹریبونل کا دائرہ اختیار ملازمین کی ملازمتی شرائط و ضوابط تک محدود ہے، اگر قواعد سے کسی ملازم کے بنیادی یا قانونی حقوق متاثر نہ ہوں تو ٹریبونل کو مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

واضح رہے کہ سروس ٹریبونل نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی ابتدائی منظوری نہ ہونے کی بنیاد پر رولز کو کالعدم قرار دیا تھا۔

Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Telegram Email
Editor

    Related Posts

    وزیراعظم پشاور پہنچ گئے، ترقیاتی پیکیج سمیت اہم اعلانات متوقع

    اکتوبر 22, 2026

    بچے کو یورین بیگ پکڑانے پر وزیرِتعلیم رانا سکندرحیات کے والد تنقید کی زد میں آگئے

    اکتوبر 22, 2026

    واشنگٹن میں پاک امریکا ٹیک کنیکٹ 2026 کے تیسرے ایڈیشن کا کامیاب انعقاد

    اکتوبر 22, 2026

    Comments are closed.

    Latest Posts

    مکہ دفاعی معاہدہ: عالمِ اسلام کے نئے دفاعی دور کا آغاز، اسرائیل اور بھارت میں بھونچال

    اگست 7, 2026

    قوم کی اصل دولت

    اپریل 8, 2026

    انفارمیشن وار: خاموش محاذ، خطرناک نتائج

    فروری 24, 2026

    قوم پرستی یا قوم فروشی؟ ایک سنجیدہ سوال

    فروری 17, 2026

    عوامی ایکشن کمیٹی: ایک عوامی تحریک یا نظریاتی یرغمالی؟

    فروری 11, 2026

    رائزنگ اسٹار ایشیا کپ میں پاکستان شاہینز نے بھارت کو 8 وکٹوں سے شکست دے دی

    نومبر 16, 2025
    Facebook X (Twitter) Pinterest Vimeo WhatsApp TikTok Instagram

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.