فرانس میں مہنگائی اور قوتِ خرید میں کمی کے خلاف مظاہروں کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ فرانسیسی میڈیا کے مطابق، ملک بھر میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ مختلف علاقوں میں 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
شہر لیون میں احتجاج پر پابندی کے باوجود مظاہرین جمع ہوئے۔ پولیس نے تقریباً 150 افراد کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی۔
فرانسیسی میڈیا کے مطابق، گزشتہ ہفتے کئی شہروں میں پُرتشدد مظاہرے ہوئے تھے۔ ان واقعات کے دوران لوٹ مار بھی کی گئی۔ اس کے بعد مختلف علاقوں میں احتجاجی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کر دی گئیں۔
یلو ویسٹس تحریک، مزدور تنظیموں اور طلبہ نے ملک بھر میں 700 سے زائد مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔ تاہم، مختلف شہروں میں احتجاج کی اجازت سے متعلق صورتِ حال مختلف ہے۔
مارسیے میں احتجاجی پابندی واپس لے لی گئی ہے۔ وہاں مزدور تنظیموں کو ریلی نکالنے کی اجازت دے دی گئی۔ اسٹراسبرگ میں بھی مظاہرے ہوں گے۔
دوسری جانب کئی شہروں میں پابندیاں برقرار ہیں۔ ان میں نینسی، میتز، بیزانسوں، بیلفور، روآن، لی آوور، ٹولون اور لیموژ شامل ہیں۔
فرانسیسی میڈیا کے مطابق، گزشتہ ہفتے ہونے والے پُرتشدد مظاہروں میں متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ زخمیوں میں پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔
ان واقعات کے دوران 3 ہزار سے زائد دکانوں کو نقصان پہنچا تھا۔ مختلف مقامات پر لوٹ مار کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔


