سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس تنازع میں بیلسٹک میزائلوں، ڈرونز اور جدید فضائی دفاعی نظاموں کا استعمال جاری ہے۔
سعودی فوجی اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاض کی جانب داغا گیا حوثیوں کا بیلسٹک میزائل تباہ کر دیا گیا۔ اتحاد کے مطابق، مشرقی علاقے میں ایک ڈرون بھی مار گرایا گیا۔
سعودی عرب میں ریاض، نجران اور وادی الدواسر کے لیے ممکنہ خطرے کا الرٹ جاری کیا گیا تھا۔ تاہم، کچھ دیر بعد یہ الرٹ واپس لے لیا گیا۔
سعودی اتحادی نے اس سے ایک روز قبل بھی کارروائی کی اطلاع دی تھی۔ اس کے مطابق، نجران اور ریاض کی جانب داغے گئے حوثیوں کے دو بیلسٹک میزائل مار گرائے گئے تھے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں حوثیوں کے زیر استعمال مختلف میزائلوں اور ڈرونز کی تفصیلات بھی بیان کی گئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، حوثیوں کے پاس فلسطین 2 بیلسٹک میزائل موجود ہے۔ اس کی مبینہ مار 2,150 کلومیٹر ہے۔ اس کی رفتار تقریباً 19 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس میں اس میزائل کی دھماکا خیز مواد لے جانے کی صلاحیت 500 کلوگرام بیان کی گئی ہے۔ حوثی اسے آواز سے کئی گنا زیادہ رفتار سے سفر کرنے والا میزائل قرار دیتے ہیں۔
ذوالفقار یا برکان 3 میزائل کی مار 1,200 کلومیٹر سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ اس کی رفتار تقریباً 6 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ رپورٹس کے مطابق، یہ 250 کلوگرام دھماکا خیز مواد لے جا سکتا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق، حوثی رجوم ڈرون بھی استعمال کرتے ہیں۔ اس کی پرواز کی حد 10 سے 30 کلومیٹر بتائی جاتی ہے۔ اس کی رفتار تقریباً 200 سے 250 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق، رجوم ڈرون چھ مارٹر گولے لے جا سکتا ہے۔
حوثیوں کے صماد 1 ڈرون کو نگرانی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی پرواز کی حد تقریباً 500 کلومیٹر بتائی گئی ہے۔ اس کی رفتار بھی 200 سے 250 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق، اس ڈرون میں دھماکا خیز مواد لے جانے کی صلاحیت بھی شامل کی جا سکتی ہے۔
سعودی عرب جدید لڑاکا طیاروں اور فضائی دفاعی نظاموں سے لیس ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، سعودی فضائیہ امریکی ساختہ ایف 15 لڑاکا طیارے استعمال کرتی ہے۔
ان طیاروں کی رفتار تقریباً 3 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ بتائی جاتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، ان میں 940 گولیوں والی خودکار توپ بھی نصب ہے۔
سعودی عرب یورپی ساختہ ٹائفون لڑاکا طیارے بھی استعمال کرتا ہے۔ ان کی رفتار تقریباً 2,495 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ ان کی پرواز کی حد تقریباً 3,790 کلومیٹر بتائی جاتی ہے۔
یہ طیارے فضائی اور زمینی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
سعودی فضائی دفاع میں امریکی ساختہ تھاڈ اور پیٹریاٹ میزائل نظام بھی اہم حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ نظام مختلف فضائی خطرات سے نمٹنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، سعودی عرب نے 2025 میں دفاعی شعبے پر 83.2 ارب ڈالر خرچ کیے۔ ان رپورٹس میں سعودی عرب کو دفاعی اخراجات کے اعتبار سے دنیا میں آٹھویں نمبر پر بتایا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ میں سعودی عرب دفاع پر سب سے زیادہ خرچ کرنے والا ملک رہا۔


