کوئٹہ: بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسم خشک جبکہ صوبے کے شمالی علاقوں میں صبح اور رات کے اوقات میں سردی کی شدت بڑھ گئی ہے۔
موسم میں تبدیلی اور خنکی میں اضافے کے ساتھ کوئٹہ سمیت مختلف علاقوں میں گیس کی لوڈشیڈنگ اور کم پریشر جبکہ بجلی کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے شہریوں اور گھریلو صارفین کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
طویل عرصے سے بارشیں نہ ہونے کے باعث موسم میں خشکی برقرار ہے، جبکہ بدلتے موسم کے ساتھ نزلہ، زکام اور کھانسی جیسی موسمی بیماریوں کی شکایات بھی سامنے آرہی ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسم خشک رہنے کا امکان ہے، تاہم شمالی اضلاع میں صبح اور رات کے اوقات میں سرد موسم برقرار رہنے کی توقع ہے۔
درجہ حرارت کے اعدادوشمار کے مطابق کوئٹہ میں کم سے کم درجہ حرارت 5، قلات میں ایک، زیارت میں 2، ژوب میں 14، سبی میں 23، تربت میں 24، نوکنڈی میں 15 اور چمن میں 9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ساحلی علاقے گوادر میں کم سے کم درجہ حرارت 22 اور جیوانی میں 23 ڈگری سینٹی گریڈ رہا۔
دوسری جانب موسم سرد ہونے کے باوجود کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں گیس کی لوڈشیڈنگ اور کم پریشر کے باعث شہریوں کو کھانا پکانے اور گھریلو امور کی انجام دہی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ بجلی کی بندش نے بھی معمولات زندگی کو متاثر کر رکھا ہے، جس کے باعث گھریلو صارفین کو بیک وقت سردی، گیس کی قلت اور بجلی کی لوڈشیڈنگ جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ موسم میں خنکی بڑھنے کے ساتھ گیس اور بجلی کی بلاتعطل فراہمی مزید ضروری ہوگئی ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گیس کی لوڈشیڈنگ اور کم پریشر کے مسئلے کے حل کے ساتھ بجلی کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے بھی مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ سرد موسم میں عوام کو درپیش مشکلات میں کمی آسکے۔


