مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھارتی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر میں جمہوریت کے بجائے خوف کے ذریعے حکمرانی کی جا رہی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق محبوبہ مفتی نے سری نگر میں ایک تقریب سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت وادی میں پابندیوں اور سیکیورٹی اقدامات پر انحصار کر رہی ہے۔
محبوبہ مفتی کے مطابق بھارتی حکومت سیاسی رابطوں کے بجائے مسلح افواج کے استعمال پر توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام بدستور شک اور ہراسانی کا سامنا کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 1947ء سے جموں و کشمیر مسلسل سخت فوجی نگرانی میں ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ اگست 2019ء میں دفعہ 370 کی منسوخی نے کشمیریوں کے سیاسی حقوق کو کمزور کیا۔ ان کے مطابق یہ اقدام بی جے پی حکومت کی جانب سے کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پابندیوں کے باعث وادی میں معمولاتِ زندگی کی صورتِ حال کے بجائے خوف کا ماحول ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ احتجاج اور آزادیِ اظہار پر پابندیوں کو معمول کی صورتِ حال نہیں سمجھنا چاہیے۔
سابق وزیرِ اعلیٰ نے خطے کے دیرینہ مسائل حل کرنے کے لیے سیاسی اقدامات پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری حقوق اور آئینی اصولوں کا احترام ضروری ہے۔
محبوبہ مفتی کے مطابق بامعنی سیاسی مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں پائیدار بہتری کے لیے سیاسی مکالمہ اہم ہے۔


