پاکستانی مستقل مشن کے قونصلر گل قیصر سروانی نے اس حوالے سے پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔ انہوں نے نئے مستقل ارکان کی شمولیت اور ویٹو کے استحقاق میں توسیع کی مخالفت کی۔
گل قیصر سروانی کے مطابق، ویٹو پاور میں توسیع سے سلامتی کونسل میں عدم مساوات مزید گہری ہوگی۔ پاکستان ویٹو پاور کے خاتمے یا اس کے استعمال پر سخت پابندیوں کا حامی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ویٹو پاور کا ناجائز استعمال اقوام متحدہ کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ پاکستان اس اختیار کے استعمال کے بعد جنرل اسمبلی میں بحث کے انعقاد کی حمایت بھی کرتا ہے۔
پاکستان نے سلامتی کونسل میں منتخب ارکان کی تعداد بڑھانے پر زور دیا ہے۔ مؤقف کے مطابق، ان ارکان کی نمائندگی اور کردار میں بھی اضافہ ہونا چاہیے۔
گل قیصر سروانی نے کہا کہ سلامتی کونسل میں اصلاحات کے پانچوں نکات پر جامع پیکج کے تحت فیصلے کیے جائیں۔ ان کے مطابق، اصلاحات کے تمام پہلوؤں پر بیک وقت پیش رفت ضروری ہے۔
پاکستانی قونصلر نے زور دیا کہ اصلاحات تمام رکن ممالک کے لیے ہونی چاہئیں۔ کسی ملک کو خصوصی مراعات نہیں ملنی چاہئیں۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ سلامتی کونسل کی اصلاحات منصفانہ اور جامع ہونی چاہئیں۔ اس عمل میں منتخب ارکان کی مؤثر نمائندگی اور کردار کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے۔


