سابق مس سوئٹزرلینڈ بیٹریس کیول نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ واقعہ نومبر 1993ء میں نیویارک کے پلازا ہوٹل میں پیش آیا۔ وائٹ ہاؤس نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ الزام امریکی ایوانِ نمائندگان کی عدالتی کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان کی ایک رپورٹ میں شامل ہے۔ رپورٹ میں ٹرمپ کے جیفری ایپسٹین سے مبینہ تعلقات اور خواتین کے ساتھ بدسلوکی کے دیگر الزامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم، یہ الزامات تاحال عدالت میں ثابت نہیں ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق بیٹریس کیول نے کمیٹی کے عملے کو اپنا بیان دیا۔ ان کے مطابق 1993ء میں ایک مقابلۂ حسن کے دوران ان کی ٹرمپ سے ملاقات ہوئی تھی۔ اس وقت ان کی عمر 24 سال تھی۔
کیول کے بقول، ٹرمپ نے انہیں امریکی ویزا حاصل کرنے اور نیویارک یونیورسٹی میں داخلے کے لیے مدد کی پیشکش کی۔ رپورٹ کے مطابق جیفری ایپسٹین نے بھی ان سے ملاقات کی۔ اس نے مبینہ طور پر ٹرمپ سے قریبی دوستی کا ذکر کیا اور انہیں فلوریڈا میں واقع مارالاگو آنے کی دعوت دی۔
رپورٹ میں کیول کے حوالے سے کہا گیا کہ بعد میں ٹرمپ کے ایک نمائندے نے انہیں ہوٹل کے ایک سوئٹ میں ملاقات کے لیے بلایا۔ کیول کے مطابق وہاں ٹرمپ نے انہیں زبردستی پکڑا اور ان کے ساتھ زیادتی کی۔
رپورٹ میں ان کے بیان کے حوالے سے جسمانی چوٹوں اور لباس پھٹنے کا بھی ذکر ہے۔ کیول نے مبینہ واقعے کے بعد سوئٹزرلینڈ واپسی اختیار کی۔ انہوں نے بعد میں ٹرمپ کے زیرِ اہتمام ایک اور مقابلۂ حسن میں شرکت سے بھی انکار کر دیا۔
وائٹ ہاؤس نے کیول کے الزامات اور رپورٹ میں شامل دیگر دعووں کو مسترد کیا ہے۔ ترجمان لارین بِس نے کہا کہ یہ الزامات درست نہیں ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق رپورٹ امریکی عوام کی توجہ دوسرے معاملات سے ہٹانے کی سیاسی کوشش ہے۔ انتظامیہ نے ایپسٹین سے متعلق معاملے میں بھی ٹرمپ کے خلاف الزامات کو مسترد کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس واقعے کے حوالے سے ٹرمپ پر کوئی فوجداری فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔ اس لیے رپورٹ میں شامل الزامات کو ثابت شدہ جرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔


