تل ابیب میں اسرائیلی انتخابات کے بعد سیاسی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں اور عرب جماعتوں نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو پر تنقید کی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ نیتن یاہو انتخابی نتائج کو متنازع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق، نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ نے عرب جماعتوں پر الزامات عائد کیے ہیں۔ جماعت کا دعویٰ ہے کہ عرب جماعتوں نے انتخابی کامیابی کے لیے ووٹ خریدے۔ اس کے علاوہ، ان پر بیرونی مداخلت کے ذریعے انتخابی عمل پر اثرانداز ہونے کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی داخلی سیکیورٹی ادارہ شن بیت بھی ان الزامات کا جائزہ لے رہا ہے۔ تاہم، ان دعوؤں کی تحقیقات کے نتائج سامنے آنے تک انہیں ثابت شدہ حقائق قرار نہیں دیا جا سکتا۔
دوسری جانب، قطر نے ان الزامات کو مضحکہ خیز اور خطرناک قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ قطری وزارت خارجہ نے اسرائیلی سیاست دانوں پر دوحہ کے خلاف گمراہ کن مہم چلانے کا الزام بھی لگایا ہے۔
فراہم کردہ انتخابی اعداد و شمار کے مطابق، نیتن یاہو کے اتحاد نے 53 نشستیں حاصل کیں۔ اس کے مقابلے میں گادی آئزن کوٹ کے اتحاد کو 48 نشستیں ملیں۔
دریں اثنا، دو عرب سیاسی اتحادوں نے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کیں۔ یہ کامیابی توقعات سے بڑھ کر قرار دی جا رہی ہے۔ 120 رکنی کنیسٹ میں ان نشستوں کی اہمیت خاصی بڑھ گئی ہے۔
انتخابی نتائج کے بعد عرب جماعتیں حکومت سازی میں فیصلہ کن پوزیشن پر آگئی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دونوں بڑے سیاسی اتحاد سادہ اکثریت حاصل نہیں کر سکے۔

