امریکہ چینی ٹیلی کام کمپنیوں کی امریکی فون نمبرز تک براہ راست رسائی روکنے پر غور کر رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد قومی سلامتی کا تحفظ اور دھوکہ دہی پر مبنی خودکار کالز کی روک تھام ہے۔
امریکی فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن (FCC) نے جمعرات کو اس منصوبے کا اعلان کیا۔ ادارہ 19 نومبر کو متعلقہ تجویز پر ووٹنگ کرے گا۔ اس کے تحت چائنا موبائل، چائنا ٹیلی کام اور چائنا یونی کام کی براہ راست رسائی محدود کی جا سکتی ہے۔
یہ پابندی انٹرنیٹ پروٹوکول (IP) پر مبنی خدمات فراہم کرنے والی دیگر کمپنیوں پر بھی لاگو ہوسکتی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق، مجوزہ اقدام کا مقصد غیر قانونی خودکار کالز کے خلاف دفاع مضبوط بنانا ہے۔ وائس اوور انٹرنیٹ پروٹوکول (VoIP) ٹیکنالوجی آواز کو ڈیجیٹل ڈیٹا میں تبدیل کرتی ہے۔ اس کے ذریعے براڈبینڈ کنکشنز پر کالز منتقل کی جاتی ہیں۔
ٹیلی کام کمپنیوں کے لیے امریکی فون نمبرز تک براہ راست رسائی کم خرچ متبادل فراہم کرتی ہے۔ اس سہولت سے جدید خصوصیات پیش کرنا بھی آسان ہوجاتا ہے۔
ایف سی سی کے چیئرمین برینڈن کار نے ایک بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ دفاعی اقدامات کو مضبوط کرے گا۔ ان کے مطابق، ادارہ بدنیتی پر مبنی عناصر اور غیر قانونی خودکار کالز کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے گا۔
چینی سفارت خانے نے اس اعلان پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا

