کوئٹہ میں جہانزیب، نور زیب، انور، مجیب، قاسم اور عبیداللہ کے اہلخانہ نے ان سے تعلق ختم کرنے کا اعلان کیا، مستونگ سے تعلق رکھنے والے یونس شاہوانی کے خاندان نے بھی اس کے کسی عمل سے خود کو الگ کر لیا ہے۔
کچھی میں عنایت اللہ، عبدالنافع، طائب اور یاسر کے اہلخانہ نے بھی ان سے لاتعلقی اختیار کر لی۔
خاندانوں کا کہنا تھا کہ لاپتا ہونے کے بعد دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہونے اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد سے ان کا کوئی تعلق نہیں، اگر ان کے بیٹے دہشت گردوں کے ایجنڈے پر کام کرتے پائے گئے تو وہ بھی ان سے کوئی تعلق نہیں رکھیں گے۔
اعدادوشمار کے مطابق جنوری سے اکتوبر 2026 کے دوران بلوچستان کے مختلف اضلاع میں 108 سے زائد خاندان اپنے دہشت گرد بیٹوں اور بھائیوں سے لاتعلقی کا اعلان کر چکے ہیں۔

