Close Menu
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • کالمز
  • ملٹی میڈیا
Facebook X (Twitter) Instagram
ہفتہ, اکتوبر 17
Facebook X (Twitter) Instagram
English
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • کالمز
  • ملٹی میڈیا
Home»تازہ ترین»ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے امریکی حکومت اور جیل حکام کیخلاف مقدمہ دائر کردیا
تازہ ترین

ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے امریکی حکومت اور جیل حکام کیخلاف مقدمہ دائر کردیا

EditorBy Editorنومبر 23, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
Facebook Twitter Pinterest LinkedIn WhatsApp Reddit Tumblr Email
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

واشنگٹن : امریکا میں 86 سال کی سزا کاٹنے والی پاکستانی نیورو سائنٹسٹ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے امریکی حکومت، فیڈرل بیورو آف پریزنس اور متعدد جیل حکام کے خلاف وفاقی عدالت میں جامع مقدمہ دائر کیا ہے۔

61 صفحات پر مشتمل مقدمہ تقریباً 2 ماہ قبل امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ برائے شمالی ٹیکساس میں دائر کیا گیا ہے، جس کی کاپی ’جیو نیوز‘ نے حاصل کر لی ہے۔

مقدمے کی کاپی کے مطابق ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے جیل کے عملے پر آئینی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات لگائے ہیں، جن میں جنسی زیادتی، تشدد، طبی سہولتوں کی عدم فراہمی اور مذہبی امتیاز شامل ہیں۔

‎یہ مقدمہ عافیہ صدیقی کے وکلاء نعیم ہارون سُکھیا، ماریا کری اور کلائیو اسٹافورڈ اسمتھ نے دائر کیا ہے، جس میں عافیہ صدیقی کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کی تفصیل شامل ہے۔

شکایت کے مطابق 2010ء میں ایف ایم سی کارسویل میں قید کے آغاز سے ہی صدیقی کو جیل کے عملے اور دیگر قیدیوں کی طرف سے بار بار جنسی حملوں اور جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔

شکایت میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعات الگ تھلگ نہیں تھے بلکہ جیل میں جاری ایک منظم بدسلوکی کا حصہ تھے۔

‎عافیہ صدیقی کا دعویٰ ہے کہ مرد محافظ جن میں سے بعض کے نام شکایت میں شامل ہیں، انہیں معمول کی تلاشی کے بہانے ہراساں کرتے اور جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے تھے۔

شکایت میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ زیادتی کی اطلاع دینے پر ایک واقعے میں جیل کے عملے نے مبینہ طور پر ان پر تیزابی محلول کا چھڑکاؤ کیا تھا۔

‎مقدمے کا ایک اہم حصہ عافیہ صدیقی کو اپنی مذہب کی آزادی سے محروم کرنے پر مبنی ہے۔

عافیہ صدیقی نے کئی بار امام سے روحانی رہنمائی کے لیے رسائی کی درخواست کی، ان کے قانونی ٹیم کی کوششوں کے باوجود جنہوں نے مقامی امام عمر سلیمان اور عاصف ہیرانی کے ساتھ ملاقاتوں کا انتظام کرنے کی کوشش کی، ایف ایم سی کارسویل کے عملے نے ان درخواستوں کو مستقل طور پر نظر انداز یا تاخیر کا شکار بنایا۔

‎شکایت میں کئی ایسے واقعات کا حوالہ دیا گیا ہے جن میں عافیہ کے مذہبی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی، جیسے کہ مرد اہلکاروں کا ان کے نجی لمحات میں دیکھنا، ان کو کپڑے اتارنے پر مجبور کرنا اور مذہبی اشیاء ضبط کرنا۔

عافیہ صدیقی کو گزشتہ ایک دہائی سے جمعے کی نماز ادا کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔

‎شکایت میں عافیہ صدیقی کو فراہم کی جانے والی ناکافی طبی دیکھ بھال کو بھی اجاگر کیا گیا ہے، حالانکہ ان کے دستاویزی PTSD اور جسمانی بیماریوں کے مسائل موجود ہیں، جو امریکی حراست میں مبینہ تشدد کے دوران پیدا ہوئے تھے۔

وکلاء کا کہنا ہے کہ جیل میں ان کی شدید صدماتی حالت اور جسمانی زخموں کو نظر انداز کرنا، بشمول سماعت کی کمی اور دانتوں کے مسائل آٹھویں ترمیم کی خلاف ورزی ہیں۔

‎اس مقدمے میں عافیہ صدیقی کے الزامات سے ایف ایم سی کارسویل میں وسیع پیمانے پر بد انتظامی دیکھنے میں آتی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور پچھلے مقدمات کی رپورٹس میں جیل کے عملے کی جانب سے خواتین قیدیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے کئی واقعات کا انکشاف ہوا ہے۔

2022ء میں فورٹ ورتھ اسٹار ٹیلیگرام کی تحقیقات نے جیل کے عملے کی جنسی بدسلوکی کے متعدد واقعات کو بے نقاب کیا، جن میں سے بہت سے واقعات کو چھپایا گیا یا مناسب طریقے سے حل نہیں کیا گیا۔

Court Dr Afia Pakistan USA
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Telegram Email
Editor

    Related Posts

    برطانوی فوج کے سربراہ کا جنگی خطرات سے متعلق انتباہ، عوام کو تیار رہنے کی ہدایت

    اکتوبر 17, 2026

    مکہ مسجد میں نازیبا حرکات پر بنگلادیشی مرد اور خاتون کو سزائے موت دے دی گئی

    اکتوبر 16, 2026

    یوکرینی صدر زیلنسکی کی امریکی روسی ڈیزل معاہدے پر تنقید، یورپ سے 70 ارب یورو طلب

    اکتوبر 16, 2026

    Comments are closed.

    Facebook X (Twitter) Pinterest Vimeo WhatsApp TikTok Instagram

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.