یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے امریکا اور روس کے درمیان ڈیزل معاہدے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے اسے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جنگی مالی اعانت قرار دیا۔
زیلنسکی نے یہ بات برسلز میں یورپی یونین کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے روس کی امن کوششوں کو محض دکھاوا قرار دیا۔ ان کے مطابق پیوٹن حقیقی امن مذاکرات میں دلچسپی نہیں رکھتے۔
یوکرینی صدر نے ڈرون آپریشنز سے متعلق خدشات بھی ظاہر کیے۔ انہوں نے کہا کہ فرنٹ لائن پر ڈرون گرانے کے لیے مؤثر نظام ضروری ہیں۔
زیلنسکی نے اسپیس ایکس کے اسٹار شیلڈ سسٹم کی رفتار میں خلل پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کے مطابق اس صورت حال سے آپریشنز متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
یورپی یونین کے رہنماؤں نے اجلاس میں زیلنسکی کی حمایت کی۔ اس موقع پر اسٹونیا کے وزیراعظم نے یورپی ممالک پر زور دیا کہ وہ یوکرین کو نیا قرض فراہم کریں۔
انہوں نے یہ مطالبہ یوکرین کے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے کیا۔ ان کے مطابق مالی معاونت یوکرین کی ضروریات پوری کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
یوکرین نے یورپی یونین سے آئندہ سال کے لیے مالی تعاون کی اپیل کی ہے۔ کییف نے دفاعی ضروریات پوری کرنے اور روس کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کے لیے کم از کم 70 ارب یورو مانگے ہیں۔
یہ مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یوکرین کو جنگی اخراجات اور بجٹ کے دباؤ کا سامنا ہے۔ یورپی یونین کی مالی معاونت آئندہ سال یوکرین کی دفاعی تیاریوں کے لیے اہم ہوگی۔


