Close Menu
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • کالمز
  • ملٹی میڈیا
Facebook X (Twitter) Instagram
ہفتہ, اکتوبر 17
Facebook X (Twitter) Instagram
English
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • کالمز
  • ملٹی میڈیا
Home»سنٹرل ایشیا»طالبان کا اصل چہرہ بے نقاب: افغانستان غیر ملکی شہریوں کے لیے خطرناک ترین ملک قرار
سنٹرل ایشیا

طالبان کا اصل چہرہ بے نقاب: افغانستان غیر ملکی شہریوں کے لیے خطرناک ترین ملک قرار

gulraiz23@gmail.comBy gulraiz23@gmail.comمارچ 10, 2026Updated:مارچ 10, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
Facebook Twitter Pinterest LinkedIn WhatsApp Reddit Tumblr Email
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

طالبان کا اصل چہرہ بے نقاب: افغانستان غیر ملکی شہریوں کے لیے خطرناک ترین ملک قرار

افغانستان میں قائم Taliban حکومت کے دعووں اور زمینی حقائق کے درمیان فرق ایک بار پھر واضح ہو گیا ہے۔ امریکہ نے افغانستان کو باضابطہ طور پر "State Sponsor of Wrongful Detention” قرار دیتے ہوئے طالبان پر الزام لگایا ہے کہ وہ غیر ملکی شہریوں کو حراست میں لے کر سیاسی دباؤ اور سودے بازی کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اس اقدام نے ایک بار پھر طالبان کے طرز حکمرانی اور ان کے بین الاقوامی وعدوں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio نے واضح کیا کہ طالبان کی جانب سے قیدیوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنا دراصل وہی پرانا حربہ ہے جس کے ذریعے شدت پسند گروہ عالمی برادری پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق طالبان اگر عالمی برادری میں کسی بھی قسم کی ساکھ چاہتے ہیں تو انہیں فوری طور پر غیر ملکی شہریوں کو رہا کرنا ہوگا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق افغانستان کے لیے سفری انتباہ کی سطح Level-4: Do Not Travel ہے، جو سب سے زیادہ خطرناک درجہ بندی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ طالبان کے اس دعوے کے باوجود کہ افغانستان سیاحوں کے لیے محفوظ ہے، زمینی حقیقت یہ ہے کہ وہاں غیر ملکی شہریوں کی جان و مال کو شدید خطرات لاحق ہیں اور کسی بھی وقت انہیں حراست میں لیا جا سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان کی موجودہ پالیسی نہ صرف افغانستان کی عالمی تنہائی کو بڑھا رہی ہے بلکہ خود افغان عوام کے لیے بھی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے۔ غیر ملکی شہریوں کی گرفتاریوں اور سخت پالیسیوں کی وجہ سے سرمایہ کاری، سیاحت اور سفارتی تعلقات مزید متاثر ہو رہے ہیں جس کا براہ راست نقصان افغانستان کے عوام کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر طالبان واقعی افغانستان کو عالمی برادری کا حصہ بنانا چاہتے ہیں تو انہیں طاقت اور دباؤ کی سیاست چھوڑ کر بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کا احترام کرنا ہوگا، ورنہ افغانستان کی تنہائی اور بحران مزید گہرا ہوتا جائے گا۔

حوالہ:
یہ موقف امریکی حکام کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر جاری کردہ بیانات میں سامنے آیا، جہاں امریکی محکمہ خارجہ کی اسسٹنٹ سیکریٹری اور وزیر خارجہ Marco Rubio نے افغانستان کے بارے میں سخت سفری انتباہ اور طالبان کے خلاف مؤقف واضح کیا۔

 

Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Telegram Email
gulraiz23@gmail.com
  • Website

Related Posts

پاکستان اور ازبکستان کا اقتصادی روابط مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

اگست 30, 2026

پاکستان،قازقستان،ازبکستان اورتاجکستان کے درمیان تجارت،سرمایہ کاری اورعلاقائی روابط بڑھانے پر اتفاق

جولائی 25, 2026

صرف پاکستان ہی ایران امریکا تنازع حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے،صدر آذربائیجان

جولائی 13, 2026

Comments are closed.

Facebook X (Twitter) Pinterest Vimeo WhatsApp TikTok Instagram

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.