یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب میں ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات پر حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ بیان ایک ایسے حملے کے ایک روز بعد سامنے آیا، جس میں سعودی آرامکو کے ہیڈ کوارٹر کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
ذرائع کے مطابق، حوثیوں نے ان مقامات کو جائز اہداف قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں یمن پر سعودی حملوں کے جواب میں کی جا رہی ہیں۔
حوثیوں نے خبردار کیا کہ ان حملوں سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ خلیج میں امریکا اور ایران کے درمیان تناؤ کے باعث بھی تنازع دوبارہ شدت اختیار کر چکا ہے۔
یمنی حوثی مسلح افواج کے ترجمان جنرل یحییٰ سریع نے ٹیلی گرام پر جاری بیان میں ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔
انہوں نے کہا کہ مسلح افواج نے سعودی دارالحکومت ریاض میں واقع ہوائی اڈے پر بیلسٹک میزائل داغا۔ ان کے مطابق، میزائل نے اپنے ہدف کو براہِ راست نشانہ بنایا۔
تاہم، اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق فراہم کردہ معلومات میں موجود نہیں۔
جنرل یحییٰ سریع نے ایک دوسری کارروائی کی تفصیلات بھی بیان کیں۔ ان کے مطابق، سعودی افواج کے متعدد مراکز کو تین بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے ان مقامات کی نشاندہی راس العارہ اور المضریبہ کے نام سے کی۔ ترجمان نے دعویٰ کیا کہ حملوں میں بڑی تعداد میں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔
ان کے بیان کے مطابق، حملوں کے نتیجے میں کئی فوجی گاڑیاں بھی ناکارہ ہو گئیں۔ ان ہلاکتوں، زخمیوں اور نقصانات کی آزاد ذرائع سے تصدیق فراہم کردہ معلومات میں شامل نہیں۔
حوثیوں کے تازہ بیان سے سعودی عرب اور یمن کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں نے علاقائی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
بیان میں حوثیوں نے اپنی کارروائیوں کو یمن پر سعودی حملوں کا ردعمل قرار دیا۔ تاہم، حملوں کے اثرات اور سعودی عرب کی جانب سے ممکنہ ردعمل کے بارے میں مزید تصدیق شدہ تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔

