اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اسرائیل پر حملے کے لیے ایٹم بم تیار کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران سے اسرائیل کے وجود کو خطرات لاحق ہیں۔
نیتن یاہو کے مطابق، اسرائیل اس بار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے پوچھے بغیر ایران پر حملہ کرے گا۔ تاہم، انہوں نے اپنے بیان میں ممکنہ حملے کی تاریخ یا تفصیلات نہیں بتائیں۔
نیتن یاہو نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں یقین دلایا ہے کہ وہ ’’کام ختم کرنے کو تیار‘‘ ہیں۔ ان کے بیان میں اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ اس سے مراد کون سے مخصوص اقدامات ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم نے ان خبروں کی بھی تردید کی کہ ٹرمپ نے اکتوبر کے آغاز میں اسرائیل کو ایران پر حملے سے روک دیا تھا۔
اس سے قبل ایسی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ اسرائیلی فوج نے 10 اور 11 اکتوبر کو ایران پر حملوں کی تیاری کر لی تھی۔ ان اطلاعات کے مطابق، ٹرمپ نے اسرائیل کو حملہ کرنے سے روک دیا تھا۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ فیصلہ امریکہ میں وسط مدتی انتخابات سے قبل کیا گیا۔ تاہم، فراہم کردہ معلومات میں ان اطلاعات کی آزادانہ تصدیق شامل نہیں ہے۔
نیتن یاہو کے تازہ بیان کے بعد اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے سوالات مزید اہم ہو گئے ہیں۔ ایران کے جوہری پروگرام اور اسرائیل کی ممکنہ فوجی کارروائی سے متعلق دعووں کی تصدیق کے لیے مستند شواہد ضروری ہیں۔


