Close Menu
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • کالمز
  • ملٹی میڈیا

Subscribe to Updates

Get the latest creative news from FooBar about art, design and business.

What's Hot

عوام کی حمایت سے دہشت گردوں اور انکے گمراہ کن نظریے کو مکمل شکست دیں گے،فیلڈمارشل

اکتوبر 23, 2026

کوئی سیاسی جماعت جو خلوص کے ساتھ فورسز کے ساتھ کھڑی نہیں ہوتی وہ مائنس ہوجائےگی: رانا ثنا اللہ

اکتوبر 23, 2026

پاکستان کی بیرونی مالیاتی پوزیشن کمزور ہونے کا خدشہ، آئی ایم ایف کا انتباہ

اکتوبر 23, 2026
Facebook X (Twitter) Instagram
جمعہ, اکتوبر 23
Facebook X (Twitter) Instagram
English
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • کالمز
  • ملٹی میڈیا
Home»پاکستان»پاکستان کی بیرونی مالیاتی پوزیشن کمزور ہونے کا خدشہ، آئی ایم ایف کا انتباہ
پاکستان

پاکستان کی بیرونی مالیاتی پوزیشن کمزور ہونے کا خدشہ، آئی ایم ایف کا انتباہ

EditorBy Editorاکتوبر 23, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
Facebook Twitter Pinterest LinkedIn WhatsApp Reddit Tumblr Email
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

آئی ایم ایف نے زرمبادلہ کے ذخائر کو محفوظ رکھنے کیلئے شرحِ مبادلہ میں لچک برقرار رکھنے اور بڑھتی مہنگائی پر قابو پانے کیلئے مانیٹری پالیسی مزید سخت کرنے پر زور دیا ہے۔

آئی ایم ایف نے پاکستان کے بارے میں یہ مشاہدات مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا سے متعلق اپنی علاقائی رپورٹ میں پیش کئے جو گزشتہ ہفتے عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں کے ایک ہفتے بعد گزشتہ روز جاری کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق درمیانی مدت کے دوران مصر، اردن اور مراکش کی بیرونی مالیاتی پوزیشن میں بہتری آنے کی توقع ہے، جس کی وجہ اجناس کی کم قیمتیں اور برآمدات میں تنوع ہوگا۔

تاہم پاکستان کی بیرونی مالیاتی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے، کیونکہ درآمدات میں اضافہ اور ترسیلاتِ زر میں کمی متوقع ہے، آئی ایم ایف نے پاکستان کے جاری کھاتے کا خسارہ مجموعی قومی پیداوار کے ایک فیصد یعنی تقریباً 4.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی پیش گوئی کی ہے، یہ تخمینہ حکومت کے تقریباً 2.5 ارب ڈالر کے سرکاری اندازے سے کہیں زیادہ ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے کے مطابق پاکستان کی مجموعی بیرونی مالیاتی ضروریات جی ڈی پی کے 22 سے 25 فیصد تک رہنے کا امکان ہے، جو ہم پلہ ممالک کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے اور مختلف مالیاتی خطرات کا باعث بن سکتی ہیں۔

رپورٹ میں حکومت اور تجارتی بینکوں کے درمیان گہرے تعلق کا بھی ذکر کیا گیا ہے، آئی ایم ایف کے اندازے کے مطابق بینکوں کے مجموعی اثاثوں یا سرمایہ کاری میں سرکاری قرضوں سے متعلق ایکسپوڑر 63 فیصد ہے، جو ابھرتی ہوئی معیشتوں کی عمومی سطح سے کہیں زیادہ ہے۔

آئی ایم ایف نے خبردار کیا کہ حکومتی قرضوں میں اضافے سے متعلق خدشات کے نتیجے میں حکومت کیلئے قرض لینے کی لاگت بنیادی تخمینوں سے زیادہ ہو سکتی ہے، اس سے مصر اور پاکستان جیسے ممالک میں مالیاتی استحکام کے مسائل مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے، جہاں مجموعی مالیاتی ضروریات پہلے ہی زیادہ ہیں۔

حکومت روپے کی قدر میں کمی کی اجازت دینے سے متعلق کسی بھی تجویز پر محتاط رویہ اختیار کئے ہوئے ہے، کیونکہ اس سے مہنگائی بڑھنے کا خدشہ ہے اور برآمدات کو حقیقی معنوں میں فائدہ پہنچنے کے امکانات بھی واضح نہیں ہیں۔

انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر ایک پیسے اضافے کے بعد 276.85 روپے رہی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ممالک کو مانیٹری پالیسی مزید سخت کرنے کیلئے تیار رہنا چاہیے، بالخصوص وہاں جہاں مہنگائی پہلے ہی مقررہ ہدف سے زیادہ ہو اور پالیسی کا موجودہ انداز نسبتاً نرم دکھائی دے۔

ایسی صورتِ حال میں مرکزی بینک کی پالیسی شرحِ سود، اندازاً غیر جانب دار سطح سے کم ہوتی ہے، یہ صورتحال کرغزستان اور پاکستان میں زیادہ نمایاں ہے۔

آئی ایم ایف نے بتایا کہ تنازع شروع ہونے کے بعد مختلف ممالک نے اپنے شرحِ مبادلہ کے نظام کے مطابق شرحِ سود سے متعلق مختلف اقدامات کیے، لچکدار شرحِ مبادلہ رکھنے والے ممالک میں پاکستان واحد ملک تھا جس نے تنازع شروع ہونے کے بعد شرحِ سود میں اضافہ کیا۔

آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی ترقی کی پیش گوئی 3.5 فیصد پر برقرار رکھی ہے۔ یہ شرح حکومت کے چار فیصد کے سرکاری ہدف سے کم اور عالمی بینک کے تخمینے سے بھی نیچے ہے۔

مالیاتی محاذ پر آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ خطے کی متعدد معیشتوں میں 2026 کے دوران مالیاتی پالیسی نسبتاً نرم ہونے کی توقع ہے، جبکہ 2027 سے مالیاتی استحکام اور اخراجات میں ضبط کی پالیسی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔

Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Telegram Email
Editor

    Related Posts

    عوام کی حمایت سے دہشت گردوں اور انکے گمراہ کن نظریے کو مکمل شکست دیں گے،فیلڈمارشل

    اکتوبر 23, 2026

    کوئی سیاسی جماعت جو خلوص کے ساتھ فورسز کے ساتھ کھڑی نہیں ہوتی وہ مائنس ہوجائےگی: رانا ثنا اللہ

    اکتوبر 23, 2026

    اسحاق ڈار چار ملکی وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کیلئے استنبول روانہ

    اکتوبر 23, 2026

    Comments are closed.

    Latest Posts

    مکہ دفاعی معاہدہ: عالمِ اسلام کے نئے دفاعی دور کا آغاز، اسرائیل اور بھارت میں بھونچال

    اگست 7, 2026

    قوم کی اصل دولت

    اپریل 8, 2026

    انفارمیشن وار: خاموش محاذ، خطرناک نتائج

    فروری 24, 2026

    قوم پرستی یا قوم فروشی؟ ایک سنجیدہ سوال

    فروری 17, 2026

    عوامی ایکشن کمیٹی: ایک عوامی تحریک یا نظریاتی یرغمالی؟

    فروری 11, 2026

    رائزنگ اسٹار ایشیا کپ میں پاکستان شاہینز نے بھارت کو 8 وکٹوں سے شکست دے دی

    نومبر 16, 2025
    Facebook X (Twitter) Pinterest Vimeo WhatsApp TikTok Instagram

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.