اسرائیلی نیوز چینل 12 نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور فوجی سربراہ جنرل ایال ضمیر کے درمیان اختلافات کی رپورٹ دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، یہ اختلاف ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی سے متعلق ہے۔
چینل 12 کا دعویٰ ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان غیر معمولی نوعیت کا تصادم جاری ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فوجی قیادت انتخابات سے قبل ایران کے خلاف کارروائی کے ممکنہ نتائج پر تشویش رکھتی ہے۔
تاہم، رپورٹ میں بیان کردہ واقعات کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ رپورٹ میں نامعلوم سیاسی ذرائع کی جانب سے اس کے بعض دعووں کی تردید بھی کی گئی ہے۔
چینل 12 کے مطابق، جنرل ایال ضمیر ایک غیر متعین فوجی کارروائی کی مخالفت کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے وزیراعظم سے قانونی منظوری سے متعلق دستخط شدہ دستاویزات طلب کیں۔
رپورٹ کے مطابق، یہ معاملہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سامنے آیا۔ تاہم، چینل نے کہا کہ اس واقعے کی تمام تفصیلات نشر نہیں کی جا سکتیں۔
رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی فوجی سنسرشپ کے ضوابط کے تحت معلومات محدود رکھی گئی ہیں۔ اس لیے مجوزہ کارروائی کی نوعیت اور ممکنہ اہداف واضح نہیں کیے گئے۔
چینل 12 کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فوجی قیادت کو سیاسی فیصلوں پر تحفظات ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، خدشہ ہے کہ حکومت ایران کے معاملے کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔
رپورٹ میں ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے ممکنہ کارروائی کو حساس اور ڈرامائی قرار دیا گیا۔ ذریعے کے مطابق، اس اقدام سے ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسی صورتحال غلط اندازوں کا سبب بن سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
تاہم، یہ خدشات رپورٹ میں نامعلوم ذرائع سے منسوب کیے گئے ہیں۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے ان دعووں کی مکمل تصدیق فراہم نہیں کی گئی۔
رپورٹ میں وزیراعظم نیتن یاہو اور جنرل ایال ضمیر کے تعلقات میں تناؤ کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ چینل 12 کے مطابق، پاماحیم ایئربیس پر ہونے والی ایک بحث میں اختلافات نمایاں ہوئے۔
رپورٹ میں اس ملاقات کے ماحول کو انتہائی تلخ قرار دیا گیا۔ تاہم، اس بحث کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں۔
چینل نے مزید دعویٰ کیا کہ جنرل ضمیر کو حالیہ دنوں میں سیاسی قیادت سے ایک غیر متعین ہدایت ملی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے اس پر عمل درآمد سے پہلے سنجیدہ مشاورت کا مطالبہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق، جنرل ضمیر نے اس اقدام کے لیے قانونی بنیادوں پر دستخط شدہ دستاویزات بھی طلب کیں۔ ایک نامعلوم سینئر سکیورٹی ذریعے نے ان کے کردار کو اہم قرار دیا۔
اس ذریعے کے حوالے سے کہا گیا کہ تاریخ حالیہ دنوں میں جنرل ضمیر کے کردار کو فراموش نہیں کرے گی۔
چینل 12 کی رپورٹ میں نامعلوم سیاسی ذرائع کی تردید بھی شامل ہے۔ ان ذرائع نے رپورٹ میں بیان کردہ معاملے کو مکمل جھوٹ قرار دیا۔
اس کے باوجود چینل نے رپورٹ نشر کی۔ تاہم، دستیاب معلومات سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ اختلافات کی نوعیت کیا تھی یا کسی فوجی کارروائی کا حتمی حکم دیا گیا تھا۔


