سری نگر/اسلام آباد: مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کو 79 برس مکمل ہو گئے۔ اس موقع پر کشمیری آج 27 اکتوبر کو یومِ سیاہ منا رہے ہیں۔ لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف، پاکستان اور دنیا بھر میں احتجاجی سرگرمیاں ہوں گی۔
کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں نے ہڑتال کی کال دی ہے۔ مقبوضہ وادی میں بھارتی اقدامات کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کیے جائیں گے۔
بھارت نے 27 اکتوبر 1947ء کو اپنی فوجیں سری نگر میں اتاری تھیں۔ اس اقدام کو تقسیمِ برصغیر کے منصوبے کی خلاف ورزی قرار دیا جاتا ہے۔ کشمیریوں کے مؤقف کے مطابق بھارت نے ان کی امنگوں کے برخلاف علاقے پر قبضہ کیا۔
کشمیری ہر سال 27 اکتوبر کو اس اقدام کے خلاف یومِ سیاہ مناتے ہیں۔ اس روز مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال اور احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا گیا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں آباد کشمیری بھی ریلیاں نکالیں گے۔
ان سرگرمیوں کا مقصد عالمی برادری کی توجہ مسئلہ کشمیر کی جانب مبذول کرانا ہے۔ مظاہرین اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت دینے کا مطالبہ کریں گے۔
مظفر آباد میں یومِ سیاہ کے موقع پر شاہراہِ سری نگر پر مارچ کیا جائے گا۔ شرکاء کنٹرول لائن کی جانب بڑھیں گے۔ اس سلسلے میں ضلع جہلم ویلی کے علاقے ہٹیاں بالا میں بھی بھارت کے خلاف احتجاج ہوگا۔


