اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب عثمان جدون نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کیا۔ انہوں نے رپورٹ کے زیرِ جائزہ عرصے میں کسی نئے لاپتا شخص کی شناخت نہ ہونے پر تشویش ظاہر کی۔
عثمان جدون نے کہا کہ 1990 اور 1991 کے المناک واقعات کے انسانی اثرات اب بھی برقرار ہیں۔ ان اثرات کو کم کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔
انہوں نے لاپتا کویتی شہریوں اور تیسرے ممالک کے شہریوں کے انجام کا تعین کرنے پر زور دیا۔ ان کے مطابق، شناخت کے بعد باقیات اہلِ خانہ کے حوالے کرنا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کویتی املاک کی واپسی کے لیے بھی اقدامات کا مطالبہ کیا۔
پاکستانی مندوب نے عراق اور کویت کی جانب سے باہمی احترام کے عزم کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ پیش رفت تعاون کو مزید آگے بڑھائے گی۔
ان کے مطابق، اس سے لاپتا افراد کی تلاش میں مدد مل سکتی ہے۔ کویتی املاک اور سرکاری دستاویزات کی واپسی کا عمل بھی تیز ہو سکتا ہے۔
عثمان جدون نے کہا کہ کئی خاندان دہائیوں سے اپنے پیاروں کے انجام کے منتظر ہیں۔ ان کے مطابق، ہر قابلِ اعتماد اطلاع ان خاندانوں میں نئی امید پیدا کرتی ہے۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ اس معاملے میں اب تک خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔ تاہم، طویل عرصے سے جاری تلاش میں مشکلات اور تکنیکی پیچیدگیاں بھی درپیش ہیں۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ یہ دیرینہ انسانی مسئلہ ٹھوس اور تیز تر کوششوں کا تقاضا کرتا ہے۔ انہوں نے متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ تلاش کے عمل کو مؤثر بنائیں۔


