اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے کیوبا پر امریکی پابندیاں ختم کرنے کے مطالبے کی قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کر لی ہے۔ قرارداد کے حق میں 130 ووٹ ڈالے گئے، جبکہ 17 ممالک نے مخالفت کی۔ اس کے علاوہ، 25 ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔
چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق، یہ مسلسل 34واں موقع ہے جب جنرل اسمبلی نے کیوبا کے خلاف امریکی اقتصادی، تجارتی اور مالیاتی پابندیاں ختم کرنے کی قرارداد منظور کی ہے۔
منظور شدہ قرارداد میں امریکی پابندیوں سے متعلق مختلف قوانین اور ضوابط پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ ان میں 1996 میں نافذ کیا گیا ہیلمز برٹن ایکٹ بھی شامل ہے۔
قرارداد کے مطابق، ایسے قوانین کے بیرون ملک اثرات دیگر ممالک کی خودمختاری کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ان کے باعث متعلقہ ممالک کے دائرہ اختیار میں آنے والے افراد اور اداروں کے جائز مفادات بھی متاثر ہوتے ہیں۔
قرارداد میں آزادانہ تجارت اور جہاز رانی پر پڑنے والے اثرات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس تناظر میں جنرل اسمبلی نے ایسے اقدامات کے تسلسل پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔
جنرل اسمبلی نے تمام ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسے قوانین اور اقدامات وضع کرنے یا نافذ کرنے سے گریز کریں۔ قرارداد میں ان ممالک پر بھی زور دیا گیا ہے جو پہلے ہی ایسے قوانین نافذ کر رہے ہیں۔
ان ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ ان قوانین کو جلد از جلد منسوخ یا غیر مؤثر بنانے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔ اس طرح قرارداد نے اقتصادی پابندیوں کے بین الاقوامی اثرات پر توجہ مرکوز کی ہے۔
قرارداد میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے بھی درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس پر عمل درآمد سے متعلق رپورٹ تیار کریں۔ یہ رپورٹ جنرل اسمبلی کے آئندہ سالانہ اجلاس میں پیش کی جائے گی۔
مسلسل 34ویں قرارداد کی منظوری سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنرل اسمبلی میں کیوبا پر امریکی پابندیوں کے خلاف حمایت برقرار ہے۔ تاہم، قرارداد کی منظوری بذاتِ خود امریکی پابندیوں کے خاتمے کا باعث نہیں بنتی۔

