Close Menu
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • ملٹی میڈیا
  • کالم

Subscribe to Updates

Get the latest creative news from FooBar about art, design and business.

What's Hot

گلگت بلتستان میں آج یومِ آزادی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے

نومبر 1, 2026

کراچی پورٹ پر کھاد اور گندم سے لدے 2 بحری جہازوں کی آمد

نومبر 1, 2026

سوئی گیس کمپنی نے گھریلو کنکشن پر پابندی غیر معینہ مدت تک بڑھا دی

نومبر 1, 2026
Facebook X (Twitter) Instagram
اتوار, نومبر 1
Facebook X (Twitter) Instagram
English
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • ملٹی میڈیا
  • کالم
Home»دنیا»الخلیل میں فلسطینیوں کی بے دخلی اور گھروں کی مسماری جاری، اقوام متحدہ کا اظہارِ تشویش
دنیا

الخلیل میں فلسطینیوں کی بے دخلی اور گھروں کی مسماری جاری، اقوام متحدہ کا اظہارِ تشویش

EditorBy Editorاکتوبر 31, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
Facebook Twitter Pinterest LinkedIn WhatsApp Reddit Tumblr Email
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

مقبوضہ مغربی کنارے کے تاریخی شہر الخلیل میں اسرائیلی فوج کی کارروائی آٹھویں روز بھی جاری رہی۔ 30 اکتوبر کو فوج نے دو فلسطینیوں کے گھر دھماکوں سے تباہ کر دیے۔ اسرائیلی حکام نے ان دونوں کو فوجیوں پر حملے میں ملوث قرار دیا تھا۔

اسرائیلی کارروائی کے دوران سینکڑوں فلسطینی خاندان متاثر ہوئے۔ متعدد افراد کو گھروں سے نکلنے پر مجبور کیا گیا۔ گرفتاریاں اور زخمی ہونے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔

مختلف رپورٹوں کے مطابق، 3,361 فلسطینی بے گھر ہوچکے ہیں۔ تقریباً 780 خاندان متاثر یا محاصرے میں ہیں۔ بلدیاتی اندازوں کے مطابق، متاثرہ آبادی کی تعداد تقریباً پانچ ہزار ہے۔ الخلیل میں گرفتار فلسطینیوں کی تعداد بھی 110 یا اس سے زیادہ بتائی گئی ہے۔

اقوام متحدہ نے شہر کی صورتحال، نقل و حرکت پر پابندیوں اور بے دخلی کے خدشات پر تشویش ظاہر کی ہے۔

الخلیل میں موجودہ فوجی کارروائی کا آغاز 23 اکتوبر کے ایک واقعے کے بعد ہوا۔ علاقے فرش الہوا کے قریب اسرائیلی فوجی چوکی پر دو فلسطینی مسلح افراد نے فائرنگ کی۔

اس حملے میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔ اسرائیلی فوج نے بعد ازاں دونوں حملہ آوروں کو ہلاک کرنے کا اعلان کیا۔

اسرائیلی حکام کے مطابق، حملہ آوروں کی گاڑی سے ہتھیار بھی برآمد ہوئے۔ حکام نے دعویٰ کیا کہ ان افراد کا ارادہ اسرائیلی شہریوں کو نشانہ بنانا تھا۔ یہ تفصیلات اسرائیلی حکام کے بیان پر مبنی ہیں۔

اس واقعے کے بعد اسرائیلی فوج نے الخلیل میں وسیع کارروائی شروع کردی۔

اسرائیلی فوج نے الخلیل کے داخلی اور خارجی راستے بند کردیے۔ مختلف چیک پوسٹوں پر آمدورفت بھی محدود کردی گئی۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے شہر کو بند کرنے اور مزید سخت کارروائی کا اعلان کیا۔ فوج نے خاص طور پر دیر بحّہ اور اس کے اطراف کے علاقوں میں کارروائیاں تیز کیں۔

متعدد فلسطینی خاندانوں کو اپنے گھر خالی کرنے کی ہدایات دی گئیں۔ بعض خاندانوں کو رات کے وقت نقل مکانی کرنا پڑی۔ فوج نے کچھ گھروں کو اپنے قبضے میں لے کر فوجی چوکیوں اور بیرکوں میں تبدیل کردیا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کی 24 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق، الخلیل کی بلدیہ نے بتایا کہ دیر بحّہ اور اس کے اطراف کے چار محلوں سے 200 سے 300 خاندان بے گھر ہوئے۔ متاثرہ خاندان شہر کے دوسرے حصوں میں رشتہ داروں کے پاس منتقل ہوگئے۔

الخلیل کی ناکہ بندی سے شہری زندگی بری طرح متاثر ہوئی۔ گاڑیوں کی آمدورفت بند یا محدود کردی گئی۔ بعض شہریوں کو پیدل فوجی گیٹ عبور کرنا پڑا۔ اس کے بعد وہ دوسری جانب ٹیکسی حاصل کرتے تھے۔

ہسپتال جانے والے مریضوں اور ملازمت پیشہ افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ زیتون کی فصل کی کٹائی کا موسم بھی متاثر ہوا۔ کسان اپنی زمینوں تک نہیں پہنچ پا رہے تھے۔

اس دوران ابراہیمی مسجد بھی بند کردی گئی۔ اس فیصلے سے جمعے کی نماز ادا کرنے والے نمازی متاثر ہوئے۔

26 اکتوبر کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے صورتحال پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے وسیع پابندیوں، گھروں کی ممکنہ مسماری اور فلسطینیوں کی بے دخلی کے خدشات پر توجہ دلائی۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق نے بھی ان اقدامات کے اثرات پر تشویش ظاہر کی۔ ادارے کے مطابق، یہ پابندیاں فلسطینیوں کی نقل و حرکت، بنیادی خدمات اور روزگار تک رسائی متاثر کررہی ہیں۔

اسرائیلی قیادت نے حملے کے جواب میں مزید سخت اقدامات کا اعلان کیا۔ نیتن یاہو نے کہا کہ الخلیل میں کارروائی جاری رہے گی۔ انہوں نے علاقے کو تبدیل کرنے کا عندیہ بھی دیا۔

اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے غیر مجاز فلسطینی عمارتیں گرانے کی دھمکی دی۔ تاہم، ان عمارتوں کے مالکان کو 23 اکتوبر کے حملے سے جوڑنے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

وزیر قومی سلامتی اتمار بن گویر اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بھی سخت کارروائی کی حمایت کی۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے اس وقت اسرائیل کے سیاسی حالات کا بھی ذکر کیا۔ رپورٹ کے مطابق، 27 اکتوبر کے انتخابات قریب تھے۔ دائیں بازو کے رہنما سلامتی کے معاملے پر سخت مؤقف ظاہر کررہے تھے۔ تاہم، یہ سیاسی پس منظر فوجی کارروائی کی واحد وجہ ہونے کا ثبوت نہیں ہے۔

27 اکتوبر کو فلسطینی شہریوں نے گھروں سے بے دخلی کے خلاف احتجاج کیا۔ رائٹرز کی تصاویر میں فلسطینی شہریوں اور اسرائیلی فوجیوں کے درمیان آمنے سامنے کی صورتحال دیکھی گئی۔

الخلیل کے گردونواح میں اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

الجزیرہ کی 29 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق، آبادکاروں نے 28 اکتوبر کو تین غیر ملکی صحافیوں پر حملہ کیا۔ ان میں ایندرے الیچ خرژانوفسکی، جو ایندرے ایکس کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں، ایڈیل شوکو اور جیسپر نیتھنیئل شامل تھے۔

رپورٹ کے مطابق، ایندرے ایکس بے ہوش ہوگئے۔ انہیں پولیس اسٹیشن لے جایا گیا۔ تاہم، ان کے بارے میں بتایا گیا کہ انہیں طبی امداد فراہم نہیں کی گئی۔

یہ واقعہ الخلیل کے اطراف فلسطینی آبادیوں اور وہاں رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو درپیش خطرات کی ایک اور مثال ہے۔

جمعرات، 29 اکتوبر کو اسرائیلی فوج نے الخلیل میں مزید کارروائیاں کیں۔ فلسطینی شہدا کی یاد میں قائم نشانات بھی مسمار کردیے گئے۔

اسرائیلی فوج نے دورا میں فلسطینی شہدا کی یاد میں بنائی گئی دیوار بلڈوزر سے گرادی۔ اس کارروائی کے دوران آنسو گیس استعمال کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

الخلیل کے مرکزی تجارتی علاقے باب الزاویہ کو بند کردیا گیا۔ دکانداروں کو کاروبار روکنے پر مجبور کیا گیا۔ متعدد دکانوں کے اوپر فوجی موبائل یونٹس بھی نصب کیے گئے۔

شہر کے جنوبی حصے میں الصاحب اسکوائر کے قریب ایک اور یادگاری نشان مسمار کیا گیا۔ یہ نشان بھی فلسطینی شہدا کی یاد میں قائم کیا گیا تھا۔

اسی روز اسرائیلی فوج کے ساتھ مزاحمت کے دوران دو فلسطینی زخمی ہوئے۔ سات افراد کی گرفتاری کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ گرفتار افراد میں مقامی شہری شامل تھے۔ ان میں یطا کے قریب اپنی زمین پر ہل چلاتے ہوئے گرفتار ہونے والے دو بھائی بھی شامل تھے۔

Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Telegram Email
Editor

    Related Posts

    امریکہ کی یوکرین کو 2.1 ارب ڈالر کے پیٹریاٹ میزائل فروخت کرنے کی منظوری

    اکتوبر 31, 2026

    ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی فوج کو دشمن کی دھمکیوں کا فوری جواب دینے کی ہدایت

    اکتوبر 31, 2026

    مقبوضہ جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ کی دوسری شادی، سوشل میڈیا پر اعلان

    اکتوبر 31, 2026

    Comments are closed.

    Latest Posts

    بھٹو کی نتھ فورس

    اکتوبر 30, 2026

    مکہ دفاعی معاہدہ: عالمِ اسلام کے نئے دفاعی دور کا آغاز، اسرائیل اور بھارت میں بھونچال

    اگست 7, 2026

    قوم کی اصل دولت

    اپریل 8, 2026

    انفارمیشن وار: خاموش محاذ، خطرناک نتائج

    فروری 24, 2026

    قوم پرستی یا قوم فروشی؟ ایک سنجیدہ سوال

    فروری 17, 2026

    عوامی ایکشن کمیٹی: ایک عوامی تحریک یا نظریاتی یرغمالی؟

    فروری 11, 2026
    Facebook X (Twitter) Pinterest Vimeo WhatsApp TikTok Instagram
    All Right Reserved © Vision Point PK 2026 . Managed by Vision Point

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.